دیونار میں۵۸۸؍جانور وں کا ذبیحہ

Updated: July 23, 2021, 9:21 AM IST | saeed ahmed khan | Mumbai

پہلے دن مذبح میں۲۸۹؍ جبکہ دوسرے دن ۲۹۹؍جانور ذبح کئے گئے، اس طرح مجموعی تعداد ۵۸۸؍ہوگئی، آخری دن کیلئے کم جانور فروخت ہوئے

Large animal sacrifices continue at the Deonar altar.Picture:Inquilab
دیونار مذبح میں بڑے جانوروں کی قربانی کا سلسلہ جاری ہے تصویر انقلاب

عیدالاضحی میں  بڑے جانوروں کی قربانی کی اجازت ملنے کے بعد دیونار مذبح میں عید قرباں کے پہلے دن۲۸۹؍ جانور اور باسی عیدالاضحی کو۲۹۹؍بھینس اور پاڑے ذبح کئے گئے۔
دو دن میں۵۸۸؍جانوروں کا ذبیحہ 
 اس سے لوگوں کو کسی حد تک سہولت تو ملی لیکن عین وقت پر بی ایم سی کی جانب سے اجازت دیئے جانے سے جانور کافی مہنگے ہوگئے اور اس کا بوجھ قربانی کرنے والوں پر پڑا۔
ترتیب کے مطابق قربانی کے جانوروں کا ذبیحہ
 دیونار مذبح کے جنرل منیجرڈاکٹر یوگیش شیٹے نے نمائندہ انقلاب کے استفسار پر بتایا کہ جو ترتیب قربانی کے۳؍ دنوں کیلئے رکھی گئی ہے اسی لحاظ سے پہلے دن۲۸۹؍جانور اور دوسرے دن ۲۹۹؍ جانور ذبح کئے گئے ۔ انہوں‌ نے یہ بھی بتایا کہ آج آخری دن کے لئے بھی پہلے سے تیاری کی گئی ہے اور دیکھنا ہوگا کہ۳۰۰؍جانور ذبح کئے جاتے ہیں یا‌ نہیں کیونکہ اس کا انحصار قربانی کرنے والوں پر ہے۔ اس کے علاوہ کورونا کی گائیڈ لائن اور برتی جانے والی سختی پر عمل کیا جارہا ہے، لوگ  از خود ماسک پہننے اور سوشل ڈسٹنسنگ قائم رکھنے کا‌خیال رکھ رہے ہیں۔واضح ہوکہ بی ایم سی کے فیصلے سے قربانی کرنے والوں کو یقیناً کسی قدر راحت ملی ہے لیکن لوگوں کے مطالبے کے پیش نظر جانوروں کی  تعداد اور بڑھائی جانی چاہئےتھی کیونکہ بڑے جانوروں میں حصہ لینے والوں کی تعداد کافی ہوتی ہے ۔ ایسے میں اس مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لئے انہیں یا تو دوسری جگہ کا رخ کرنا پڑا یا پھر وہ مہنگے جانور خریدنے پر مجبور ہوئے۔
موقع کا فائدہ اٹھارہے ہیں تاجر
 تاجروں نےبھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں بلکہ موقع دیکھ کر بڑھادی گئی ہیں۔اس تعلق سے دیونار میں جانور ذبح کرواکر دکانوں پر گوشت سپلائی کرنے والے حاجی محمد شریف قریشی نےانقلاب کو بتایا کہ جانوروں کی قیمتیں اس قدر بڑھادی گئی ہیں کہ دام دگنا کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ صرف قربانی کے موقع سے فائدہ اٹھایا جارہا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن‌جانوروں کی قیمت آج ۴۰؍ ہزار لی جارہی ہے، قربانی کے ایام ختم ہونے پر ان جانوروں کو ۲۰؍تا ۲۲؍ہزار روپے سے زیادہ دام میں کوئی نہیں خریدے گا۔حاجی محمد شریف قریشی  نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی اس کاروبار سے جڑا ہوں لیکن میں منافع کمانے کے نام پر لوٹنے کا قائل نہیں ہوں ،جیسا کہ اس وقت قربانی کے نام پر کیا جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ایسے لوگ جو موقع کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں وہ خوشحال نہیں رہیں گے کیونکہ یہ قربانی کا موقع ہے اور ہر شخص مذہبی فریضہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں تاجروں کو بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے ۔

deonar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK