کل سےدیونار مذبح میں بھینسوں کاذبیحہ شروع ہوگا

Updated: October 02, 2022, 11:08 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

اجازت ملنے کےبعدانتظامیہ نے تاجروں کو جانور لانے کی ہدایت دی۔گوشت کی بڑھی ہوئی قیمت کم ہونے کی امید۔بیماری کےبعد سے لوگ گوشت کھانے سے ہچکچارہے ہیں

Animals will be medically checked before being admitted to the Deonar Slaughterhouse. (File Photo)
دیونار سلاٹر ہاؤس میں جانوروں کی داخلہ سے قبل طبی جانچ کی جائےگی۔(فائل فوٹو)

دیونار مذبح میںپیر۳؍اکتوبرسے حسب سابق بھینسوں اورپاڑوں کا ذبیحہ شروع ہوجائے گا۔ حکومت کی جانب سے آرڈر ملنے کےبعد دیونار مذبح کے جنرل منیجر کلیم پٹھان نے بھی تاجروں کوہدایت دے دی ہے کہ وہ جانور لاسکتے ہیں۔ جانور لانے والے تاجرو ں کو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوگا کہ وہ جانوروں کے طبّی معائنے کی رپورٹ ساتھ رکھیں۔اس کے بعد دیونار مذبح میںداخل ہونے سے قبل اور ذبیحے سے قبل بھی جانوروں کی جانچ کی جائےگی تاکہ مکمل طور پریہ اطمینان ہوجائے کہ جانورمیں ’لمپی‘  بیماری یا اس کی علامت نہیں ہے۔
 حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد سے قریش برادری اوربالخصوص تاجرو ں میں خوشی پائی جارہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ لمپی بیماری کے سبب ۹؍ستمبر سے بھینسوں اورپاڑوں کا ذبیجہ بند کردیا گیا تھا ، پیر ۳؍اکتوبر کو جب دوبارہ ذبیحہ شروع ہوگا تو ۲۴؍دن گزرچکےہوں گے۔
گوشت کی سپلائی بحال ہونے سے قیمت میںکمی کی امید 
 چونکہ بیماری کےسبب دیونارمذبح میںذبیحہ بند تھا اس لئے تاجردوسری جگہوں سے گوشت کا نظم کررہے تھے اور انہوںنے قیمت بھی بڑھا دی تھی ۔قیمت بڑھانے کا جواز انہوں نے یہ پیش کیا تھا کہ جانور مہنگے ہوگئے ہیں اورگوشت لانے میں بھی خرچ بڑھ گیا ہے اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ دام بڑھانے پرمجبور ہیں ۔لیکن اب جبکہ حسب معمول گوشت کی سپلائی شروع ہوجائے گی تو دیکھنا ہوگا کہ وہ قیمت میںکمی کرتے ہیں یا بڑھائی گئی قیمت کوبرقرار رکھنے کیلئے کوئی اوربہانہ تلاش کرتے ہیں۔ 
تیاری پہلے سے کی جاچکی ہے
 دیونار مذبح کے جنرل منیجر کلیم پٹھان نے انقلاب کویہ بھی بتایا کہ ’’حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کےبعد ہی تیاری شروع کردی گئی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ تیاری تو تھی ہی ،وقتی طور پرذبیحہ روکا گیا تھا اب پہلے کی طرح اسے شروع کردیا جائے گا۔‘‘انہوںنے ذبح کی جانے والی بھینسوںکی تعداد ۲۵۰؍ بتائی اورکہاکہ ’’لمپی جِلدی بیماری سے قبل بھی اسی تعداد میں دیونار مذبح میںبھینسیں کاٹی جاتی تھیں، یہی کوٹہ مقرر کیاگیا ہے۔‘‘ 
۲۴؍دن تک انتظار کرنے کے بعدحالات بدلیںگے
 بیماری کےباوجود صحت مند جانورو ں کے طبی معائنے کے بعد اسے ذبح کرنے کا مطالبہ قریش برادری کی جانب سے پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے ۔ ذمہ داران کا کہنا تھا کہ جب دیونار میں ڈاکٹر موجو دہیںاورخواہ بیماری ہویا نہ ہو وہ معائنہ کےبعد ہی جانور ذبح کرنے کی اجازت دیتے ہیں تواس وقت بھی وہی طریقہ اپنایاجائے اورصحت مند جانور کاٹے جائیںتاکہ گوشت کی سپلائی متاثر نہ ہو اورجو لوگ اس کاروبار سے جڑے ہیں ان کی روزی روٹی کا مسئلہ نہ ہو۔ لیکن حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی ۔
 اس تعلق سے آل انڈیا جمعیۃ القریش ممبئی یونٹ کے صدر حاجی بشیر احمد،بامبے سبربن بیف ڈیلرس اسوسی ایشن کے صدر محمدعلی قریشی ، محمدبھائی ، بابو قریشی ، بڑے جانور کے چمڑے کے تاجرحاجی عبدالعزیزقریشی اور دیگر ذمہ داران کی جانب سے کوشش کی گئی ،حکومت سے مطالبات کئے گئے اور رکن اسمبلی رئیس شیخ کے ہمراہ ریاستی وزیربرائے مویشی پالن وکھے پاٹل سے ملاقات کی گئی ، ان مشترکہ کوششوں کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا اوریہ مسئلہ حل ہوگیا۔
بیماری کے سبب گوشت کم خریدنے کی شکایت 
 بامبے سبربن بیف ڈیلرس اسوسی ایشن کے نائب صدر حاجی انتظار قریشی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بیماری کے سبب گوشت خریدنے والوں میںکمی آئی ہے اورلوگ ہچکچا رہے ہیں ۔ حالانکہ دیونار مذبح میںذبیحہ شروع ہونے کے بعد یہ امید ہےکہ لوگوں میںاعتماد بحال ہوگا اوروہ پہلے کی طرح گوشت خریدیں گے ۔یہاں پوری احتیاط کے ساتھ جانور ذبح کئے جائیں گے۔ اس لئے خطرے یا کسی قسم کے اندیشے کی کوئی بات نہیں ہے۔ حکومت کی تمام ہدایات پرسختی سے عمل کیا جائے گا۔‘‘

deonar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK