ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ڈیلیوری پارٹنرز پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے اور اس بات کو نمایاں کر دیا ہے کہ آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارمز اپنی فلیٹس کو الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز)(EVs) میں منتقل کرنے کے عمل میں اب بھی بہت پیچھے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 01, 2026, 6:03 PM IST | Mumbai
ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ڈیلیوری پارٹنرز پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے اور اس بات کو نمایاں کر دیا ہے کہ آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارمز اپنی فلیٹس کو الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز)(EVs) میں منتقل کرنے کے عمل میں اب بھی بہت پیچھے ہیں۔
ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ڈیلیوری پارٹنرز پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے اور اس بات کو نمایاں کر دیا ہے کہ آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارمز اپنی فلیٹس کو الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز)(EVs) میں منتقل کرنے کے عمل میں اب بھی بہت پیچھے ہیں۔ زیادہ تر رائیڈرز اب بھی پیٹرول سے چلنے والی دو پہیہ گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
ڈیلیوری پارٹنرز، جو اپنا ایندھن خود خریدتے ہیں، قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور فی کلومیٹر کم از کم ۲۰؍ روپے ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب گیگ ورکر یونینز کا کہنا ہے کہ فی آرڈر آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے رائیڈرز کے منافع کے مارجن مزید کم ہو گئے ہیں۔
یہ دباؤ اس حقیقت کے باوجود موجود ہے کہ ایٹرنل، سویگی، فلپ کارٹ اور امیزون جیسے بڑے پلیٹ فارمز نے۲۰۳۰ء تک اپنی تمام ڈیلیوری فلیٹس کو مکمل طور پر الیکٹرک بنانے کا عہد کیا ہوا ہے تاہم، سہ ماہی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منتقلی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
ایٹرنل نے اپنی مالی سال ۲۰۲۶ء کی چوتھی سہ ماہی کی رپورٹ میں بتایا کہ مارچ ۲۰۲۶ء تک فعال ای وی پر مبنی ڈیلیوری پارٹنرز کی تعداد ایک سال پہلے کے ۵۲؍ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی تاہم، فوڈ ڈیلیوری اور کوئیک کامرس میں مجموعی طور پر۱۰؍ لاکھ سے زائد ڈیلیوری پارٹنرز کے مقابلے میں ای ویز کا تناسب تقریباً ۱۰؍ فیصد ہی بنتا ہے۔سویگی، جس کےمالی سال ۲۶ء چوتھی سہ ماہی ۶۱۲۰۰۰؍ ماہانہ فعال ڈیلیوری پارٹنرز تھے، نے پہلے بتایا تھا کہ اس کی ای وی فلیٹ۱۲؍ ماہ کے دوران ۷؍ گنا بڑھ گئی ہے، تاہم کمپنی نے ای ویز کی اصل تعداد یا موجودہ تناسب ظاہر نہیں کیا۔ ای ویز کے محدود استعمال کا مطلب یہ ہے کہ ڈیلیوری پارٹنرز کی ایک بڑی تعداد اب بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔
صنعتی اندازوں کے مطابق، پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل استعمال کرنے والا ایک ڈیلیوری پارٹنر فی کلومیٹر تقریباً ۵ء۳؍سے۵؍ روپے خرچ کرتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ گیگ ورکرز کے زیرِ استعمال گاڑیاں اکثر پرانی اور زیادہ استعمال شدہ ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں، فلیٹ آپریٹرز کی جانب سے فراہم کردہ ای وی رینٹل ماڈلز کی لاگت تقریباً۵ء۲؍سے ۷۵ء۲؍ روپے فی کلومیٹر بنتی ہے، جس میں بیٹری سویپ، مرمت اور انشورنس شامل ہوتے ہیں۔
یولو کے شریک بانی اور سی ای او امیت گپتا کے مطابق، ’’موجودہ حالات میں مشترکہ ای ویز کی طلب مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ای ویزکے استعمال میں اضافے کے واضح اثرات نظر آنے میں ایک سے دو ماہ لگ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:بوبی دیول نے عالیہ بھٹ کے ساتھ اختلافات کی افواہوں پر خاموشی توڑ دی
فلیٹ ایز اے سروس ماڈل
زیادہ تر ڈیلیوری پارٹنرز جز وقتی کام کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے ای ویز خریدنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ ایٹرنل کے اعداد و شمار کے مطابق، ایک اوسط ڈیلیوری پارٹنر سال میں صرف ۴۶؍دن پلیٹ فارم پر فعال رہتا ہے۔ اسی وجہ سے ای ویز کی جانب منتقلی کا انحصار بڑھتے ہوئے فلیٹ ایز اے سروس فراہم کنندگان، جیسے یولو اور زِپ الیکٹرک، پر ہے جو کرایہ پر گاڑیاں فراہم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:مادھوری دکشت نےکانز میں ایشوریہ رائے کے لُک کی حمایت کی
تاہم گیگ ورکر یونینز کا کہنا ہے کہ کم ہوتی ہوئی آمدنی کے باعث بہت سے رائیڈرز کے لیے کرائے کی ای ویز بھی قابلِ برداشت نہیں رہیں۔ ان کے مطابق ۲۰۲۴ء کے اوائل میں فی آرڈر بنیادی ادائیگی۳۴؍ سے ۴۲؍ روپے تھی، جو اب کئی صورتوں میں کم ہو کر صرف ۵؍ سے ۱۰؍ روپے رہ گئی ہے۔اب تک ای ویزکی طرف منتقلی زیادہ تر کوئیک کامرس کے شعبے میں دیکھی گئی ہے، جہاں ڈیلیوری کا فاصلہ کم اور گاڑیوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، فوڈ ڈیلیوری کے سفر عموماً زیادہ طویل اور غیر متوقع ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے موجودہ ای وی معاشیات کے تحت ان کا استعمال نسبتاً مشکل ہے۔ حالیہ ایندھن قیمتوں میں اضافہ پلیٹ فارمز پرای وی منتقلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ تاہم، فی الحال زیادہ تر ڈیلیوری پارٹنرز اب بھی بڑھتی ہوئی ایندھن لاگت کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔