• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ابو سالم کی ۲۵؍ سالہ قید مکمل ہونے کا دعویٰ، سپریم کورٹ نے رہائی کی اپیل رد کردی

Updated: September 10, 2026, 3:06 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے گینگسٹر ابو سالم کی فوری رہائی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ ابو سالم نے دعویٰ کیا تھا کہ پرتگال سے حوالگی کی شرائط کے تحت مقررہ ۲۵؍ سالہ قید کی مدت وہ مکمل کرچکا ہے، تاہم عدالت نے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ حاصل شدہ ریمیژن کو ۲۵؍ سال کی زیادہ سے زیادہ مدت میں شامل کرکے قید کی مدت کم کرنے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے جمعرات کو گینگسٹر ابو سالم کی وہ درخواست مسترد کردی جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ پرتگال سے حوالگی کی شرائط کے تحت عائد ۲۵؍ سالہ قید کی مدت وہ مکمل کرچکا ہے اور اسے جیل سے رہا کیا جانا چاہئے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے بمبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا، جس میں ابو سالم کی فوری رہائی کی درخواست کو ’’قبل از وقت‘‘ اور ’’غلط بنیادوں پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ابو سالم کی جانب سے ہائی کورٹ کے اپریل میں دیے گئے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت کی جانب سے تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: آدھار کے معمار نندن نیلیکنی اور نکھل کامتھ کو ایس آئی آر نوٹس

ابو سالم ۱۹۹۳ء کے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ اسے طویل قانونی جنگ کے بعد ۱۱؍ نومبر ۲۰۰۵ء کو پرتگال سے ہندوستان کے حوالے کیا گیا تھا۔ ہندوستان اور پرتگال کے درمیان طے پانے والی حوالگی کی شرائط کے تحت ابو سالم کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی اور اس کی قید کی مدت ۲۵؍ سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ سپریم کورٹ نے ۲۷؍ جولائی کو ابو سالم کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ سماعت کے دوران ابو سالم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ زیرِ سماعت مقدمے کے دوران گزارا گیا عرصہ، سزا کے بعد جیل میں گزرا وقت اور حاصل شدہ معافی (ریمیژن) کو شمار کیا جائے تو ابو سالم ۲۵؍ سال سے زیادہ عرصہ جیل میں گزار چکا ہے۔ تاہم بمبئی ہائی کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کردیا تھا کہ حاصل شدہ ریمیژن کو ۲۵؍ سال کی زیادہ سے زیادہ مدت کم کرنے کیلئے شمار کیا جا سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ابو سالم ۲۵؍ سالہ مدت میں حاصل شدہ ریمیژن کو شامل کرکے خودکار طور پر اپنی سزا میں کمی کا دعویٰ نہیں کرسکتا، کیونکہ ریمیژن جیل کے قواعد کے تحت دی جاتی ہے اور اس معاملے میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھئے: ایم پی ایس سی امتحان میں مبینہ بدنظمی اور پیپر لیک کیخلاف ودربھ کے طلبہ کا سنویدھان چوک پر احتجاج

ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ ابو سالم کو پہلی مرتبہ ۱۱؍ نومبر ۲۰۰۵ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس تاریخ سے ۲۵؍ سال کی سادہ مدت کا حساب لگایا جائے تو اس کی مدتِ قید نومبر ۲۰۳۰ء میں مکمل ہوگی۔ ابو سالم کو ۱۹۹۳ء کے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسے ایک دوسرے مقدمے میں بھی عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ جولائی ۲۰۲۲ء میں ایک الگ فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ مرکزی حکومت پرتگال سے کیا گیا اپنا وعدہ نبھانے کی پابند ہے اور ابو سالم کی ۲۵؍ سالہ سزا مکمل ہونے پر اسے رہا کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK