گوونڈی کے وارڈ نمبر۱۳۸؍ میں کچھ علاقوں کو شامل کردیا گیا ہے

Updated: June 16, 2022, 10:17 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

جوگیشوری مشرق کے سابق کارپوریٹر کے مطابق پرانا وارڈنمبر ۷۸؍ اب وارڈ نمبر ۸۰؍ ہوگیا ہےجس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی

Ward No. 80 of Bandra Plot in Jogeshwari East area has now been changed. (Photo: Revolution)
جوگیشوری مشرق کا علاقہ باندرہ پلاٹ کا وارڈ نمبر اب ۸۰؍ ہوگیا ہے۔ (تصویر: انقلاب)

  بی ایم سی کے ذریعے وارڈوں کی نئی حد بندی سے کچھ کارپوریٹر خفا ہیںتوکچھ ایسے ہیںجن کے وارڈ میں معمولی تبدیلی کی گئی ہے،جس سے انہیں اطمینان ہے۔ ایسے ہی سابق کارپوریٹرس میں شامل ہیں جوگیشوری کی این سی پی کی سابق کارپوریٹر صوفی نازیہ عبدالجبار اورگوونڈی کی سائرہ فہد اعظمی ۔ ان کے وارڈ کے صرف نمبرتبدیل ہوئے ہیں۔
 گوونڈی کی کارپوریٹرسائرہ کے شوہر فہد اعظمی نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نمائندۂ انقلاب کوبتایا کہ ’’پہلےیہ وارڈنمبر ۱۳۴؍ تھا ،اب نئی حدبندی میں وارڈ نمبر ۱۳۸؍ ہوگیا ہے۔ وارڈ کی نئی حد بندی میںکچھ زیادہ تبدیلی نہیں کی گئی ہے البتہ کچھ علاقوں کواور شامل کردیا گیا ہے۔  اس میںپلاٹ نمبر۳۶،  ۳۷،  ۳۸؍ ۴۱؍ اور آزاد نگروغیرہ علاقے شامل کئے گئے ہیں۔  اس لئے پہلے کےمقابلے وارڈ بڑا  ہوگیا ہے جس سے کام کرنے کا مزیدموقع ملے گا اورلوگوں کی بہتر طریقے سے خدمت کی جاسکے گی۔‘‘
  انہوں نے نئی حدبندی کے تعلق سے کہاکہ ’’ جو کارپوریٹرس   کام کرنے میںیقین رکھتے ہیں، ان کیلئے تبدیلی سے زیادہ فرق نہیںپڑتا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ جس وارڈ میںکارپوریٹرنے ۵؍سال عوام کی خدمت کی ہے، ان کےمسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے ،اگراسے پوری طرح سےبدل دیا جائے یا اس کی اصل شناخت ہی ختم کردی جائے تو سوال تو بہرحال قائم ہوتا ہے ۔ اس لئے ہمیں امید ہے کہ ایک مرتبہ پھرعوا م کی خدمت کا موقع ملے گا اوران کے مسائل حل کرنے کیلئے مزیدقوت سے کوشش کی جائے گی تاکہ علاقے کواورخوبصورت اور صاف ستھرابنایا جاسکے ۔‘‘
 جوگیشوری کی سابق کارپوریٹرصوفی نازیہ  کے شوہر عبدالجبار نے بتایا کہ پرانا وارڈ ۷۸؍ تھا، اب  یہ ۸۰؍ہوگیا ہے ۔ اس وارڈ میںکوئی تبدیلی نہیںکی گئی ہے اس لئے ان کے لئے کوئی مسئلہ یا پریشانی کی بات نہیں ہے۔ ‘‘ انہوںنےیہ بھی کہا کہ ’’ حدبندی کا مقصد شہریوں کو مزیدبہتر سہولتیں مہیا کروانا ہے ۔ اس اعتبار سے صحیح اندازہ اسی وقت ہوسکے گا جب انتخابات میں کامیاب ہوکر عوامی نمائندے ایوان میں پہنچیں گے اورعوام کے مسائل حل کروانے کیلئے اپنی صلاحیت کا استعمال کریںگے۔ویسے بتایا تو یہی گیا ہےکہ وارڈ اس لئے بڑھائے جارہے ہیں تاکہ وارڈوں کے ووٹروں میںتناسب پیدا ہو، کہیںبہت زیادہ توکہیں کم ووٹروں سے بے ترتیبی نہ ہو اورشہریوں کے مسائل بلا تاخیرحل کروانے میںمدد مل سکے ۔‘‘ 
 انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ ان کے وارڈ میںجو علاقے شامل تھے ، وہ اپنی جگہ قائم ہیں، کچھ کمی بیشی کی گئی ہے لیکن وہ ایسی نہیںہے جس سے کوئی مسئلہ ہو یا جسے واقعی تبدیلی کے طور پر بیان کیاجاسکے ۔ اس لئے راحت کی بات یہ ہے کہ وارڈ بھی پہلے جیسا ہے اورچہرے بھی پہچانے ہوئے ہیں۔ موقع ملنے پردوبارہ ادھورے کاموں کی تکمیل اور علاقے کی ترقی کیلئے ذہن میں جو خاکہ ہے،  اسے پورا کیا جاسکے گا تاکہ وارڈ نمبر ۸۰؍ اورنمایاں اورمنفرد ہوسکے۔ ‘‘
 واضح رہے کہ جوگیشوری کی سابق کارپوریٹر صوفی نازیہ عبدالجبارکا ذات سرٹیفکیٹ غلط پایا گیا تھا جس کی بناءپر ان کی رکنیت کالعدم قرار دے دی گئی تھی اورکورونابحران سے قبل سےہی اس وارڈ میںکوئی کارپوریٹر نہیں رہا ۔ مقامی لوگوں نےبی ایم سی سے درخواست کی تھی کہ کسی کی تقرری کی جائے تاکہ کم ازکم عوامی مسائل حل کرنے اوروارڈ کی نگرانی ممکن ہوسکے لیکن اس پرتوجہ نہیں دی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK