• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نائن الیون کو مسلمانوں کیخلاف نفرت کیلئے استعمال نہ کریں: متاثرہ کے بیٹے کی اپیل

Updated: September 12, 2026, 7:01 PM IST | New York

نائن الیون حملوں میں اپنے والد کو کھونے والے مائیک ماسارولی نے متاثرین کے ناموں کی سالانہ خواندگی کے موقع پر نفرت کے خلاف پُرزور آواز بلند کی۔ انہوں نے سیاست دانوں اور عوام سے اپیل کی کہ اس سانحہ کو مسلمانوں یا کسی بھی مذہب و نسل کے خلاف نفرت پھیلانے کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔

Mike Massaroli, son of Michael Massaroli, who was killed in the 9/11 attacks, gives a speech. Photo: X
نائن الیون حملے میں ہلاک ہونے والے مائیکل ماسارولی کے بیٹے مائیک ماسارولی تقریر کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

نائن الیون حملے میں ہلاک ہونے والے مائیکل ماسارولی کے بیٹے مائیک ماسارولی نے امریکہ میں ہونے والے چار مربوط دہشت گرد حملوں میں ہلاک افراد کے ناموں کی سالانہ خواندگی کی تقریب کے اختتام پر ایک پُرزور خطاب کیا۔ انہوں نے سیاست دانوں اور عوام پر زور دیا کہ وہ اس سانحے کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کیلئے استعمال کرنا بند کریں۔ نیویارک، پنسلوانیا اور ورجینیا میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں ۱۱؍ ستمبر۲۰۰۱ء کے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والے تقریباً ۳؍ ہزار افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ نیویارک میں تمام زندہ سابق امریکی صدور گراؤنڈ زیرو میں منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے، جہاں حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے نام پڑھے گئے۔ اس سال کی تقریب میں ان افراد کیلئے بھی ایک لمحے کی خاموشی اختیار کی گئی جو حملوں کے بعد پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ورزش سے قبل سوشل میڈیا کا استعمال جسمانی کارکردگی متاثر کر سکتا ہے: ڈینش ماہرین

تاہم ناموں کی خواندگی کا اختتام مائیک ماسارولی کے پُرزور الفاظ پر ہوا، جنہوں نے نفرت کے خلاف آواز بلند کی۔ ماسارولی نے کہا، ’’میں آخر میں صرف یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اس سانحے کو نفرت پھیلانے کیلئے استعمال کرکے آپ میرے والد اور ان تمام متاثرین کی میراث کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کر رہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’آج ہم نے ہر نسل، ہر مذہب اور ہر عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہاں دیکھا ہے۔ یہ سانحہ صرف ایک سانحہ ہے۔ ‘‘ ماسارولی اس وقت صرف چھ سال کے تھے جب ان کے والد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ۲۵؍ برسوں کے دوران انہوں نے لوگوں کو نائن الیون کا حوالہ دے کر ’اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے نفرت کرتے، اور ان لوگوں سے نفرت کرتے دیکھا ہے جو ان جیسے نظر نہیں آتے۔ یہ غلط ہے اور اس سے یہاں موجود متاثرین کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ ‘
سٹی ہال کے قریب اسلام مخالف مظاہرین کا ایک چھوٹا گروپ بھی جمع ہوا اور گراؤنڈ زیرو کی جانب مارچ کیا۔ مظاہرین کے گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جبکہ مخالف مظاہرین بھی وہاں موجود تھے۔ مائیکل ماسارولی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کینٹر فٹزجیرالڈ کے نائب صدر تھے۔ وہ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے کمپنی کے۶۰۰؍سے زائد ملازمین میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: نائن اِلیون کی ۲۵؍ ویں برسی، مسلمانوں کے خلاف مارچ

نائن الیون کے بعد کی جنگوں میں لاکھوں افراد ہلاک
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے چار زندہ پیش رو ریپبلکن جارج ڈبلیو بش، جو حملوں کے وقت صدر تھے، اور ڈیموکریٹس جو بائیڈن، براک اوباما اور بل کلنٹن لوئر مین ہٹن کے گراؤنڈ زیرو میں منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے۔ 
صدر ٹرمپ نے پینٹاگون میں متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ 
۲۰۰۱ءمیں خزاں کے ایک تقریباً صاف موسم والے دن القاعدہ کے۱۹؍ دہشت گردوں نے چار مسافر طیاروں کو ہائی جیک کر لیا تھا۔ ان میں سے دو طیارے نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں یہ بلند و بالا عمارتیں منہدم ہوگئیں۔ تیسرا طیارہ پینٹاگون سے ٹکرایا، جبکہ چوتھا طیارہ، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امریکی کانگریس یا وہائٹ ہاؤس کو نشانہ بنانےکیلئے جا رہا تھا، پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارے کے مسافروں اور عملے نے ہائی جیکروں پر قابو پانے اور کاک پٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ ان حملوں نے امریکہ کی قیادت میں شروع کی جانے والی نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘کیلئے ایک محرک کا کردار ادا کیا، جس میں عراق اور افغانستان پر حملے اور جنگیں بھی شامل تھیں۔ براؤن یونیورسٹی کے کاسٹس آف وار پروجیکٹ کے مطابق، ان جنگوں کے نتیجے میں تقریباً۴۵؍ لاکھ سے۴۷؍ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK