Updated: September 12, 2026, 6:05 PM IST
| Mumbai
فلم ’’ٹیسٹ‘‘ کے اداکار آر مادھون اور سدھارتھ نے نیٹ فلکس انڈیا کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں اپنے پسندیدہ کھانوں اور ان کے امتزاج کے بارے میں دلچسپ انکشافات کیے۔ سبزی خور آر مادھون نے پیاز سامبر، اویال، دال کری اور زیرہ مرچ رسَم کو اپنی پسندیدہ غذاؤں میں شامل کیا، جبکہ سدھارتھ نے مٹن چکا، واتھا کری، فش فرائی، پراٹھا اور سالن کا ذکر کیا۔ دونوں اداکاروں نے دہی چاول سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی پسندیدہ غذاؤں میں خاص مقام دیا، جبکہ ماہرین نے بھی دہی چاول کے مختلف غذائی فوائد بیان کیے۔
سدھارتھ نارائن اور آر مادھون۔ تصویر: آئی این این
فلم ’’ٹیسٹ‘‘ اداکار آر مادھون اور سدھارتھ نے نیٹ فلکس انڈیا کے ساتھ ایک گفتگو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے پسندیدہ کھانوں کے امتزاج کے بارے میں بات کی۔ سبزی خور مادھون نے پیاز سامبر سمیت دیگر کھانوں کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں سبزی خور ہوں، اسلئے آپ کو میری جانب سے یہی ملے گا۔ اس کے علاوہ اویال، دال کری اور غیر معمولی زیرہ مرچ رسَم۔‘‘ دوسری جانب سدھارتھ نے ’’مٹن چکا‘‘ کا نام لیا اور کہا کہ ’’اسے مزیدار واتھا کری کے ساتھ ملانا ضروری ہے۔ یہ ایک سادہ فش فرائی ہے۔ پراٹھا اور سالن۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ساتھی اداکار ’’تھائیر سادَم‘‘ یعنی دہی چاول سے اپنی محبت کے باعث بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سدھارتھ نے کہا، ’’آخر میں دہی چاول ہوں گے۔ ہاں یار، ہم دہی چاول کیسے نہیں رکھ سکتے؟ ہم دہی چاول کے بغیر نہیں رہ سکتے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: دیویندو نے اپنے نام کی اسپیلنگ تبدیل کرنے کے پیچھے کا ’سائنس‘ بتا دیا
خمیر شدہ دہی چاول، جنہیں جنوبی ہند میں اکثر ’’تھائیر سادَم‘‘ کہا جاتا ہے، ایک مقبول ڈش ہے۔ نارایانا سپر اسپیشلٹی اسپتال، گڑگاؤں کی ماہر غذائیت موہنی ڈونگرے نے کہا، ’’دہی چاول اپنی ٹھنڈک بخش خصوصیات کے لیے جانے جاتے ہیں، جو انہیں ایک تازگی بخش اور سکون دینے والا کھانا بناتی ہیں۔ خمیر شدہ دہی میں موجود پروبایوٹکس ہاضمے میں مدد دیتے ہیں اور جسم کی گرمی کم کرتے ہیں۔‘‘ ڈونگرے نے مزید کہا کہ خمیر شدہ دہی میں لیکٹو بیسیلس جیسے فائدہ مند بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں، جو آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ پروبایوٹکس ہاضمے میں معاون ہوتے ہیں اور آنتوں میں موجود صحت مند بیکٹیریا کے توازن کو فروغ دیتے ہیں۔ دہی چاول میں چاول اور دہی دونوں کے غذائی فوائد شامل ہوتے ہیں۔ ڈونگرے نے کہا، ’’یہ چاول سے کاربوہائیڈریٹس، جبکہ دہی سے پروٹین، کیلشیم اور وٹامنز فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک متوازن غذا بن جاتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہانیہ عامر کا ناقدین کو جواب، ریپ سانگ جاری کیا، گانے میں راکھی ساونت کی انٹری
خمیر کرنے کا عمل دودھ میں موجود کچھ لیکٹوز اور پروٹین کو توڑ دیتا ہے، جس سے یہ ان لوگوں کے لیے ہضم کرنا آسان ہوجاتا ہے جو لیکٹوز برداشت نہیں کر سکتے یا انہیں دودھ سے ہلکی حساسیت ہوتی ہے۔ یہ ڈش ضروری غذائی اجزا سے بھرپور ہے۔ کنسلٹنٹ ڈائیٹیشن اور مصدقہ ذیابیطس ایجوکیٹر کنیکا ملہوترا نے کہا، ’’اس میں مضبوط ہڈیوں کے لیے کیلشیم، پٹھوں کی مرمت کے لیے پروٹین اور توانائی کے میٹابولزم کے لیے ’بی ۱۲‘ جیسے وٹامنز موجود ہوتے ہیں۔ چاول سے حاصل ہونے والے کاربوہائیڈریٹس فوری توانائی فراہم کرتے ہیں، جو فوری کھانے یا ورزش کے بعد کے اسنیک کے لیے بہترین ہیں۔‘‘ دہی چاول جسم کے لیے ٹھنڈک کا باعث ہیں، خاص طور پر گرم علاقوں یا مصالحے دار کھانوں کے بعد۔ ملہوترا نے کہا، ’’یہ گرم موسم میں جسم کے درجہ حرارت کو منظم کرنے اور پانی کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتا ہے، جس کی وجہ سے یہ گرمیوں کی ایک اہم غذا بن جاتا ہے۔ سوڈیم کی کم مقدار اور میگنیشیم و آئرن سے بھرپور ہونے کی وجہ سے دہی چاول دل کی صحت اور بلڈ پریشر کو منظم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور بی وٹامنز ڈوپامین کی پیداوار کو متحرک کرکے موڈ بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں اور قدرتی طور پر ذہنی دباؤ کم کرنے کا کام کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: باکس آفس: اکشے اور سیف کی فلم ’حیوان‘ کا خراب آغاز، پہلے دن صرف ۳؍ کروڑ کی کمائی
دہی چاول کو اکثر کمفرٹ فوڈ کہا جاتا ہے کیونکہ اسے آسانی سے تیار کیا جا سکتا ہے اور اپنی پسند کے مطابق اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ڈونگرے نے کہا کہ آپ اپنے ذائقے کے مطابق مختلف جڑی بوٹیاں، مصالحے اور سبزیاں شامل کرکے دہی چاول کو اپنی پسند کے مطابق بنا سکتے ہیں۔ ڈونگرے نے کہا، ’’دہی چاول کو اکثر کمفرٹ فوڈ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی ساخت ہلکی اور کریمی جبکہ ذائقہ ہلکا کھٹا ہوتا ہے۔ یہ ایک سادہ لیکن اطمینان بخش ڈش ہے جسے بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں۔‘‘