• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برکس لیڈروں کی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت، یوکرین جنگ کےخاتمے کا مطالبہ

Updated: September 12, 2026, 8:01 PM IST | New Delhi

برکس لیڈروں نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کی، ایران اور یوکرین کی جنگوں کے دوران تنازعات کی روک تھام پر زور دیا،اس کے علاوہ نئی دہلی اعلامیے میں غزہ میں تشدد، جوہری تنازع کے خطرات اور شہری و جوہری تنصیبات پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

برکس لیڈروں نے سنیچر کو ایران اور یوکرین کی جنگوں کے دوران تنازعات کو روکنے اور پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے مزید کوششوں کا مطالبہ کیا، جبکہ غزہ پٹی سے فلسطینیوں کی کسی بھی جبری بے دخلی کی مخالفت کی۔یہ مطالبات نئی دہلی اعلامیے میں شامل تھے، جو ہندوستانی دارالحکومت میں اس بلاک کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے پہلے دن متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔اکتوبر۲۰۲۵ء کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں جاری تشدد پر ’’شدید تشویش‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے، برکس لیڈروں نے ’’غزہ پٹی سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی پر مبنی کسی بھی پالیسی‘‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ 

یہ بھی پرھئے: نائن الیون کو مسلمانوں کیخلاف نفرت کیلئے استعمال نہ کریں: متاثرہ کے بیٹے کی اپیل

اعلامیے میں ’’ایسے انتظامات پر تشویش‘‘ کا بھی اظہار کیا گیا جو فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا قبضے کو جائز یا طویل بنا سکتے ہیں۔اس میں کہا گیا، ’’ہم دوبارہ تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیلی-فلسطینی تنازعے کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف پرامن ذرائع سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے اور یہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی تکمیل پر منحصر ہے، جن میں خود ارادیت اور واپسی کے حقوق شامل ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: نائن اِلیون کی ۲۵؍ ویں برسی، مسلمانوں کے خلاف مارچ

مزید برآں موجودہ عالمی صورتحالِ قطبیت اور عدم اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے، برکس اراکین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ چیلنجوں اور متعلقہ سلامتی خطرات کا جواب تنازعات کے امکانی خطرے کو کم کرنے کے لیے سیاسی و سفارتی اقدامات کے ذریعے دیں۔اس بلاک نے تنازعات کی روک تھام کی کوششوں میں شامل ہونے کی ضرورت پر بھی زور دیا، بشمول ان کے بنیادی اسباب سے نمٹنے کے۔ اعلامیے میں کہا گیا، ’’ہم تنازعات کی روک تھام اور حل میں علاقائی تنظیموں کے فعال کردار کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور بحرانوں کے پرامن حل کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘ علاوہ ازیں برکس لیڈروں نے جوہری تنازع کے بڑھتے خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور تخفیف اسلحہ، اسلحے پر کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ اعلامیے نے شہری ڈھانچوں اور پرامن جوہری تنصیبات پر ’’دانستہ حملوں‘‘پر ’’شدید تشویش‘‘ کا اظہار کیا۔اس میں کہا گیا،’’جوہری حفاظتی ضمانتیں، حفاظت اور سلامتی ہمیشہ برقرار رکھی جانی چاہئیں، بشمول مسلح تنازعات کے دوران، تاکہ لوگوں اور ماحول کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK