Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنترمنتر پر سونم وانگ چک کی طبیعت بگڑنے لگی

Updated: July 05, 2026, 8:43 AM IST | New Delhi

سماجی کارکن کی بھوک ہڑتال کا ۷؍ واں دن ،وزن ۵؍ کلو تک کم ہوگیا ،سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دپکے نے کہاکہ انہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی ،سوال کیا کہ ۲۰؍ طلبہ کی موت کے بعد بھی دھرمیندر پردھان کو ہٹایا کیوں نہیںجارہا ہے؟

Sonam Wangchuck is sleeping during the hunger strike, while Abhijeet Deepak can be seen behind her.
بھوک ہڑتال کے دوران سونم وانگ چک سورہے ہیںجبکہ ابھیجیت دپکےعقب میں دیکھے جاسکتے ہیں

 دارالحکومت کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج سنیچر کو ۱۵؍ ویں دن میں داخل ہو گیا۔  جبکہ تحریک کی حمایت میں ۷؍ دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگ چک کی طبیعت بگڑ نے لگی ہے۔تازہ ترین ہیلتھ بلیٹن کے مطابق وانگ چک کا پانچ کلو گرام سے زیادہ وزن کم ہوا ہے۔ ڈاکٹروں نے ان کے بلڈ پریشر میں مسلسل کمی اور بلڈ شوگر کی سطح میں کمی کی اطلاع دی ہے۔ ایسے میں ان کی صحت کی قریبی نگرانی کی جا رہی ہے۔ میڈیکل ٹیم باقاعدگی سے چیک اپ اور ضروری ہیلتھ ٹیسٹ کر رہی ہے۔ ابھیجیت دپکے نے کہا کہ بھوک ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت ان کے مطالبات پر ٹھوس کارروائی نہیں کرتی۔ اس دوران تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے حامی مسلسل جنتر منتر پہنچ رہے ہیں۔
 جنتر منتر پر قومی سطح پر یو پی ایس سی کے ہزاروں امیدواروں کو درپیش مسائل کو اٹھانے کی پہل زور پکڑ رہی ہے۔ اس کوشش کے ایک حصے کے طور پر، تحریک کے منتظمین کا سنیچر کویو پی ایس سی کے امیدواروں کے ساتھ بات چیت کرنے کا بھی پروگرام تھا۔ ابھیجیت دپکے ذاتی طور پر طلبہ سے ملاقات کرنے وا لے تھے۔ منتظمین نے نوٹ کیا کہ تحریک شروع ہونے کے بعد سے یو پی ایس سی کے خواہشمندوں کی ایک بڑی تعداد جنتر منتر کا دورہ کر رہی ہے۔ یہاں، طلبہ تیاری کے دوران پیش آنے والے چیلنجوں کے ساتھ ساتھ امتحانی عمل، مالی تناؤ، ذہنی تناؤ اور دیگر مشکلات کے بارے میں بھی کھل کر بات کر رہے ہیں۔ ان مسائل کو محض ذاتی مسائل کے طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں پالیسی سازوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے ساتھ طلبہ کے ساتھ ایک اوپن ڈبیٹ منعقد کی جا رہی ہے۔
 مختلف ریاستوں سے طلباء، نوجوان اور سماجی تنظیموں کے نمائندے روزانہ جنتر منتر پر تحریک کی حمایت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض کسی ایک تنظیم کی تحریک نہیں ہے، بلکہ نوجوانوں اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے لاکھوں طلبہ کے خدشات کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی طلباء میں اس ڈائیلاگ ایونٹ کے حوالے سے جوش و خروش نمایاں ہے۔ منتظمین نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ جب تک اہم مطالبات کے حوالے سے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے تب تک تحریک پُرامن طریقے سے جاری رہے گی۔ آنے والے دنوں میں طلباء، ماہرین تعلیم اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے ساتھ مزید ڈائیلاگ سیشن منعقد کیے جائیں گے ۔ بتا دیں کہ جنتر منتر پرسونم وانگ چک گزشتہ ۷؍ دنوں سے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر ہیں۔  سی جے پی کا کہنا ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو امتحان میں بے ضابطگیوں پر استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ ان کے استعفے تک یہ تحریک جاری رہے گی ۔سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ایکس پر لکھا کہ وانگ چک کی صحت روز بروز بگڑ رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعظم مودی دھرمیندر پردھان کو ہٹانے کیلئے کب تک انتظار کریں گے۔ دپکے نے لکھا ’’ سونم سر کا وزن ۵؍کلو کم  ہوگیا ہے اور ان کی صحت روز بروز بگڑ رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی۲۰؍ طلبہ کی موت کے باوجود دھرمیندر پردھان کو کیوں نہیں ہٹا رہے ہیں؟انہوں نے کہاکہ جب تک کارروائی نہیںہوتی  وانگ چک ہڑتال ختم نہیںکریں گےاور انہیںکچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی ۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK