Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ملک کاجمہوری نظام خطرہ میں ہے‘‘

Updated: July 05, 2026, 8:32 AM IST | New Delhi

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کو لکھے گئے انڈیا اتحاد کےخط کا مکمل متن ، انتخابی عمل میں ہیرا پھیری ،چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اور بی جے پی کی مختلف دھاندلیوں پر عدلیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ

Supreme Court of India
سپریم کورٹ آف انڈیا

ملک کے انتخابی نظام سے متعلق اپوزیشن  پارٹیوںنے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ ۲۸؍ جون کو انڈیا بلاک میں شامل ۲۳؍ اپوزیشن پارٹیوں اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے چیف جسٹس آف انڈیا  سوریہ کانت کو اس بارے میں ایک مشترکہ خط لکھا ہے، جسے اب کانگریس  نے جاری کردیا ہے۔ یہ خط سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کیا ہے۔ اس تعلق سے ایک خبر گزشتہ روز کے اخبار میں صفحہ اول پر شائع کی جاچکی ہے۔ اب ملاحظہ کریں اپوزیشن پارٹیوں کے خط میں موجود اہم باتوں اور شکایتوں کو تفصیل کے ساتھ :
n انتخابی ہیرا پھیری :ہم تمام یکساں نظریات رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم بی جے پی کے سخت مخالف ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔ کئی معاملات میں تو نتائج عوام کی توقعات کے مطابق قطعی نہیں ہوتےبلکہ بالکل برعکس آتے ہیںجو تشویشناک ہے۔ 
nالیکشن کمیشن پر سوال : یہ بھی لکھا گیا  ہےکہ ’’یہ حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل ہمیشہ برسر اقتدار حکومت کی جانب سے کی جاتی رہی ہے۔۲۰۱۴ء سے پہلے چند استثنائی معاملات کو چھوڑ دیا جائے تو  بہت کم  ایسے مواقع آئے ہیں جب کمیشن کے  اراکین کی دیانت داری پر سوال اٹھے ہوں لیکن۲۰۱۴ء کے بعد سے حکومت کی جانب سے تقریباً ہر تقرری ایسے افراد کی ہوئی ہے جو حکومت سے قریبی تعلق رکھتے ہیں اور بظاہر حکومت کے اشاروں پر انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کیلئے کھلے عام کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
nالیکشن کمشنر کا رویہ :خط میں لکھا گیا ہے کہ ’’ہماری سب سے بڑی تشویش الیکشن کمیشن، بالخصوص چیف الیکشن کمشنر کے جانبدارانہ رویے کو لے کر ہے۔ وہ انتخابی عمل اور نتائج کے دوران بی جے پی کی کھلے عام اور بے خوف حمایت کررہے ہیں۔
nضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی : الیکشن کمیشن نے برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی نہ کر کے اپنی غیرجانبداری کو مجروح کیا ہے جبکہ اپوزیشن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کئی مواقع پر جب بی جے پی لیڈران ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے تھے، تب بھی کمیشن خاموش رہا۔
n  اداروں کی ذمہ داری: جب ادارہ جاتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو جاتے ہیں تو جمہوریت انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس سے بچنے کیلئے اداروں کو اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ ہم عدلیہ پر سوال نہیں اٹھا رہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تمام نظام ناکام ہو جاتے ہیں تو ہم عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ اگر یہ راستہ بھی ناکام ہو جائے تو پھر ہم کس کے پاس جائیں؟ یہ سوال ہم آپ کے غور و فکر کے  لئے چھوڑتے ہیں۔
 nکورٹ کے فیصلے کا حوالہ: اپوزیشن کے  خط میںانوپ برنوال بنام یونین آف انڈیا مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پارلیمنٹ نے بعد میں قانون میں ترمیم کر کے چیف جسٹس آف انڈیا کو تقرری کمیٹی سے ہٹادیا ہے۔ اس سے الیکشن کمشنر کی تقرری میں حکومت کو اپنی من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ 
nآزاد انتخابات:  اپوزیشن نے زور دیا کہ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات ہی جمہوریت کی اصل بنیاد ہیں، اس  لئے سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ انتخابی نظام کی ساکھ، جوابدہی اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
 میڈیا کی آزادی : خط میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ روایتی میڈیا کا بڑا حصہ دباؤ یا مفادات کے باعث اپنی غیر جانبداری کھوچکا ہے، تاہم آزاد صحافتی پلیٹ فارم اب بھی اقتدار سے سوال کرنے اور حقائق سامنے لانے کا کام کر رہے ہیں۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK