Inquilab Logo Happiest Places to Work

گڑھے میں مردہ ژراف کے سر کا ویڈیو: جنوبی افریقی پارٹی کے اقدام پر اینیمل ریسکیو ورکرز کا شدید ردِعمل

Updated: August 17, 2026, 9:57 PM IST | Pretoria

جنوبی افریقہ کی سیاسی پارٹی ’ڈیموکریٹک الائنس‘ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا جس میں جوہانسبرگ کے قریب ایک بڑے گڑھے (سنک ہول) کے اندر بظاہر ایک ژراف کھڑا دکھائی دے رہا تھا۔ اس پوسٹ کا کیپشن تھا: ”ایک ایسا گہرا گڑھا جس میں ژراف بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔“ پارٹی نے ملک کی سڑکوں کے مسائل کی طرف توجہ مرکوز کرانے کیلئے یہ ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ملک کی سڑکوں کی خستہ حالی کو اجاگر کرنے کیلئے جنوبی افریقہ کی ایک سیاسی پارٹی کا عجیب و غریب ویڈیو اس وقت بری طرح الٹا پڑ گیا جب جانوروں کو ریسکیو کرنے والے عملے نے ایک زندہ ژراف کے گڑھے میں پھنسے ہونے کے گمان پر آن کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ ’ڈیموکریٹک الائنس‘ (ڈی اے) نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا جس میں جوہانسبرگ کے قریب ایک بڑے گڑھے (سنک ہول) کے اندر بظاہر ایک ژراف کھڑا دکھائی دے رہا تھا۔ اس پوسٹ کا کیپشن تھا: ”ایک ایسا گہرا گڑھا جس میں ژراف بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔“ پارٹی نے ملک کی سڑکوں کے مسائل کی طرف توجہ مرکوز کرانے کیلئے یہ ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔ 

سڑکوں اور لاجسٹکس کیلئے پارٹی کے شیڈو ممبر ایورٹ ڈو پلیسس (Evert Du Plessis)، جنہوں نے اس اسٹنٹ کا اہتمام کیا تھا، اس پر آنے والے ڈرامائی ردِعمل کا اندازہ نہ لگا سکے۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد شہریوں نے مقامی ’اول ریسکیو سینٹر‘ (Owl Rescue Centre) کو فون کرنا شروع کر دیا، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موگالے سٹی (Mogale City) میں جائے وقوع کی طرف دوڑ پڑیں۔ وہاں پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ وہ کوئی زندہ جانور نہیں تھا، بلکہ ایک مردہ ژراف کا بڑا سا سر تھا جس میں بھوسا بھر کر اسے گڑھے کے اندر رکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: تیل کی آمدنی میں کمی اور فیکٹریوں کی تباہی سے معاشی مسائل بڑھے

اس کے بعد، غصے سے بھرے ریسکیو ورکرز نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”معلوم ہوا کہ یہ وہی تھا۔ ڈی اے (DA) کی مقامی برانچ نے سوچا کہ گڑھے میں ژراف کا بھوسا بھرا سر رکھنا توجہ حاصل کرنے کا ایک ہوشیار طریقہ ہے۔“ ریسکیو ورکرز، جنہیں اس مبینہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اپنے دوسرے مشن کو ادھورا چھوڑنا پڑا تھا، اب ڈی اے سے اپنے ایندھن کے اخراجات ادا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”جب کسی جانور کی زندگی خطرے میں ہو، تو ہم انتظار نہیں کرتے، بلکہ فوراً حرکت میں آتے ہیں۔ کیا ہوتا اگر یہ واقعی سچ ہوتا؟“ انہوں نے ”سیاسی توجہ حاصل کرنے کیلئے ایک مردہ جانور کو استعمال کرنے“ پر بھی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس عمل کو ”غیر اخلاقی اور ہماری جنگلی حیات نیز حیاتیاتی تنوع کیلئے انتہائی توہین آمیز“ قرار دیا۔

اپنی اصل پوسٹ میں، ڈو پلیسس نے گڑھے کی نشان دہی کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ راہگیروں نے اسے اصل ژراف سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی نے گزشتہ سال فروری میں اس مقام کا دورہ کیا تھا اور تب سے اس گڑھے کی کوئی مرمت نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK