ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے سبب ملکی معیشت کو درپیش چیلنجزکو مہنگائی کا سبب قرار دیا۔
EPAPER
Updated: August 17, 2026, 2:08 PM IST | Agency | Tehran
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے سبب ملکی معیشت کو درپیش چیلنجزکو مہنگائی کا سبب قرار دیا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے معاشی مسائل مزید سنگین ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق تیل کی آمدنی میں کمی اور جنگ کے دوران صنعتی تنصیبات اور فیکٹریوں کی تباہی نے ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’ٹرمپ انتظامیہ ایران پر جوہری حملے پر غور کر رہی ہے‘: مارجوری ٹیلر گرین کا بڑا دعویٰ
انادولو کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میڈیا میں نشربیانات میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک میں قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ اخراجات میں اضافہ اور حکومت کی آمدنی میں کمی ہے۔ ان کے مطابق تیل کی فروخت میں کمی کے باعث ریاست کو حاصل ہونے والی آمدنی بھی کم ہوگئی ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی میں ایران اپنی ضرورت کی درآمدی اشیا نسبتاً براہ راست راستوں سے حاصل کرتا تھا، لیکن اب مختلف متبادل راستوں سے سامان ملک میں پہنچ رہا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا کی حتمی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق ایران پہلے تیل فروخت کرتا تھا، لیکن موجودہ حالات میں تیل کی فروخت پہلے کی طرح ممکن نہیں رہی، جس سے حکومت کے مالی وسائل متاثر ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر نے جنگ کے دوران ملک کے صنعتی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کو بھی معاشی مشکلات کی اہم وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کثیر تعداد میں فیکٹریوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا، جس سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوئی بلکہ حکومت کی ٹیکس آمدنی بھی کم ہوگئی۔ پزشکیان کے مطابق جب فیکٹریاں اور صنعتی ادارے تباہ ہوجاتے ہیں یا انکی سرگرمیاں رک جاتی ہیں تو حکومت کو ان سے ٹیکس بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اب حکومت کو بعض متاثرہ فیکٹریوں کو دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کرنی پڑ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کے ۵؍ بڑے تجارتی گھرانوں کا ملک کی کارپوریٹ آمدنی کے ۶۰؍فیصدپر قبضہ
ایران نے چین تک تیل پہنچانے کیلئے نیا راستہ منتخب کیا
امریکی پابندیوں اور سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث ایران نے تیل کی برآمدات کیلئے ریل کا راستہ اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی سمندری تیل برآمدات ۲۱؍ لاکھ بیرل یومیہ سے گھٹ کر تقریباً ۵؍ لاکھ۶۷؍ ہزار بیرل یومیہ رہ گئی ہیں جس کے بعد تہران نے متبادل زمینی راستوں پر انحصار بڑھا دیا ہے۔اب ایران ریلوے کے ذریعے تیل چین کے مختلف شہروں تک پہنچا رہا ہے۔