Updated: July 21, 2026, 3:07 PM IST
| Madrid
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء جیتنے کے بعد اسپین کی قومی فٹ بال ٹیم کا وطن واپسی پر ایسا استقبال کیا گیا جس نے ۲۰۱۰ء کی تاریخی کامیابی کی یادیں تازہ کر دیں۔ دارالحکومت میڈرڈ کی سڑکیں سرخ و زرد رنگ میں رنگ گئیں، فضا نعروں، موسیقی اور آتش بازی سے مسلسل گونجتی رہی جبکہ اندازاً ۱۸؍ سے ۲۰؍ لاکھ افراد ٹیم کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کئی گھنٹوں تک شدید گرمی میں کھڑے رہے۔ اسپین کی تاریخ میں اسے سب سے بڑی عوامی کھیل تقریبات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
نیوجرسی میں فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا ظاب اپنے نام کرنے والی ہسپانوی ٹیم کا طیارہ جیسے ہی میڈرڈ کے باراخاس ہوائی اڈے پر اترا، قومی ٹیم کے کپتان روڈری سب سے پہلے فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی ہاتھ میں اٹھائے باہر آئے۔ ہوائی اڈے پر موجود شائقین نے ’’کامپیونیس، کامپیونیس‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے جبکہ کھلاڑی مسلسل ہاتھ ہلا کر عوام کا شکریہ ادا کرتے رہے۔ اس کے بعد پوری ٹیم خصوصی کھلی بس میں سوار ہوئی جس پر ’’Stars Shine Together‘‘ کا نعرہ درج تھا اور یہی بس میڈرڈ کی مرکزی شاہراہوں سے گزرتی ہوئی پلازا دے سیبیلس تک پہنچی، جہاں جشن اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ سرکاری تقریبات کا آغاز شاہی محل زارزویلا پیلس سے ہوا جہاں شاہ فیلیپ ششم اور شاہی خاندان نے ٹیم کا استقبال کیا۔ شاہ نے کھلاڑیوں کو اسپین کے نوجوانوں کے لیے امید اور اتحاد کی علامت قرار دیا۔ اس کے بعد وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے ٹیم سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو اس کامیابی پر فخر ہے اور یہ صرف کھیل کی نہیں بلکہ قومی اتحاد کی بھی فتح ہے۔
جشن کا سب سے بڑا مرکز کپتان روڈری رہے۔ انہوں نے کئی مواقع پر ورلڈ کپ کی ٹرافی بلند کی اور شائقین کے نعروں کا جواب ہاتھ ہلا کر دیا۔ بعد ازاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے اس فتح کو اسپین کی نئی نسل کی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ ۲۰۱۰ء کے عالمی چیمپئنز نے جس روایت کی بنیاد رکھی تھی، موجودہ ٹیم نے اسے نئی بلندی تک پہنچایا ہے۔ اس موقع پر ہزاروں افراد مسلسل ’’روڈری، روڈری‘‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ اگر کسی ایک کھلاڑی نے جشن میں سب سے زیادہ داد وصول کی تو وہ فیران ٹوریس تھے، جنہوں نے ارجنٹائنا کے خلاف فائنل کے اضافی وقت میں فیصلہ کن گول کر کے اسپین کو دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بنایا۔ جیسے ہی ان کا نام اسٹیج پر پکارا گیا، پورا میدان تالیوں اور نعروں سے گونج اٹھا۔ ساتھی کھلاڑیوں نے انہیں گلے لگا کر مبارک باد دی جبکہ روڈری نے بھی اپنی تقریر میں خصوصی طور پر ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پورے ملک کو خوشی کا موقع دیا۔ فیران ٹوریس نے کہا کہ یہ گول صرف ان کا نہیں بلکہ پورے اسپین کے ۴۷؍ ملین عوام کا تھا۔

۱۹؍ سالہ الامین جمال اگرچہ فائنل میں گول نہ کر سکے، لیکن جشن میں وہ سب سے زیادہ مقبول چہروں میں شامل رہے۔ کھلی بس پر وہ اپنے قریبی دوست نیکو ولیمز کے ساتھ رقص کرتے، گاتے اور شائقین کا جواب دیتے نظر آئے۔ کئی مقامات پر ہزاروں افراد نے صرف جمال کے نام کے نعرے لگائے۔ نوجوان اسٹار نے ہاتھ ہلا کر مداحوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ ان کی مسکراہٹ اور جوش سے بھرپور انداز کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر لاکھوں مرتبہ دیکھے گئے۔ جشن کے دوران متعدد دلچسپ مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ فارورڈ بورخا ایگلیسیاس نے ٹیم کے غیر رسمی ڈی جے کا کردار ادا کیا اور کھلاڑیوں کی پسندیدہ موسیقی بجائی، جبکہ معروف گلوکارائیں ایتانا اور آنا مینا نے اسٹیج پر پرفارم کر کے ماحول کو مزید پرجوش بنا دیا۔ ہر کھلاڑی کو اس کی پسند کے گانے کے ساتھ اسٹیج پر بلایا گیا، جس سے تقریب کو ایک منفرد رنگ ملا۔
اس کامیابی کے ساتھ اسپین نے ایک اور منفرد اعزاز بھی اپنے نام کیا۔ اب وہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس کے پاس بیک وقت مردوں اور خواتین دونوں کے فیفا ورلڈ کپ کے عالمی اعزاز موجود ہیں۔ اسی مناسبت سے ہسپانوی ڈاک سروس نے دو ستاروں کے ساتھ ’’CAMPEONES‘‘ کے عنوان سے خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کا اعلان بھی کیا۔