امریکہ کے بین شیلٹن نے بدھ کی صبح یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں دفاعی چیمپئن کارلوس الکاراز کو پانچ سیٹ کے سنسنی خیز مقابلے میں ۷۔۶، ۱۔۶، ۳۔۶، ۶۔۳، ۶۔۷؍ سے شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کیا۔ یہ مقابلہ نیویارک میں صبح ۳؍ بجکر ۳۳؍ منٹ پر ختم ہوا۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 5:03 PM IST | New York
امریکہ کے بین شیلٹن نے بدھ کی صبح یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں دفاعی چیمپئن کارلوس الکاراز کو پانچ سیٹ کے سنسنی خیز مقابلے میں ۷۔۶، ۱۔۶، ۳۔۶، ۶۔۳، ۶۔۷؍ سے شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کیا۔ یہ مقابلہ نیویارک میں صبح ۳؍ بجکر ۳۳؍ منٹ پر ختم ہوا۔
امریکہ کے بین شیلٹن نے بدھ کی صبح یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں دفاعی چیمپئن کارلوس الکاراز کو پانچ سیٹ کے سنسنی خیز مقابلے میں ۷۔۶، ۱۔۶، ۳۔۶، ۶۔۳، ۶۔۷؍ سے شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کیا۔ یہ مقابلہ نیویارک میں صبح ۳؍ بجکر ۳۳؍ منٹ پر ختم ہوا، جو یو ایس اوپن میں کسی میچ کے اختتام کا نیا ریکارڈ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فرانسس ٹیافو نے ایلکس مائیکلسن کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی
شیلٹن نے چار گھنٹے ۲۸؍ منٹ تک جاری رہنے والے مقابلے کے فیصلہ کن ٹائی بریک میں اپنا تحمل برقرار رکھا اور سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ اس سے قبل میچ کے دیر سے ختم ہونے کا ریکارڈ بھی الکاراز کے نام تھا، جنہوں نے دو سال قبل یانک سنر کے خلاف کوارٹر فائنل میں صبح ۲؍ بجکر ۵۰؍ منٹ پر ختم ہونے والے پانچ سیٹ کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی تھی۔فتح کے بعد شیلٹن نے شائقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے شائقین بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک کے لوگوں نے رات تین بجے تک ان کا ساتھ دیا اور آخر تک یو ایس اے کے نعرے لگائے، جس سے انہیں کامیابی حاصل کرنے میں مدد ملی۔
یہ بھی پڑھئے:مراٹھی بولنے کی درخواست سنجے دت کے ذریعہ مسترد کرنے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی
شیلٹن کا شمالی امریکہ ہارڈ کورٹ سیزن میں ریکارڈ اب ۲۔۱۳؍ ہوگیا ہے۔ ۲۳؍ سالہ کھلاڑی نے حال ہی میں مونٹریال میں اپنا دوسرا اے ٹی پی ماسٹرز۱۰۰۰؍ خطاب جیتا تھا اور اب۲۰۲۳ء کے بعد پہلی بار یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں پہنچے ہیں۔ سیمی فائنل میں ان کا مقابلہ ۱۱؍ ویں سیڈ فرانسس ٹیافو سے ہوگا۔ دونوں کھلاڑی پہلی بار کسی میجر کے فائنل میں پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ ٹیافو کے خلاف شیلٹن کا باہمی ریکارڈ ۱۔۳؍ ہے۔
الکاراز چار ماہ کی انجری کے بعد اپنا پہلا ٹورنامنٹ کھیل رہے تھے اور کوارٹر فائنل تک انہوں نے صرف ایک سیٹ گنوایا تھا۔ وہ اپنے یو ایس اوپن خطاب کا دفاع کرنے اور آٹھواں میجر خطاب جیتنے کی کوشش میں تھے۔ الکاراز کی میجر ٹورنامنٹس میں مسلسل ۱۸؍ فتوحات کا سلسلہ بھی شیلٹن کے ہاتھوں ختم ہوگیا۔