Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسپیم کالز اور پیغامات: پہلی سہ ماہی میں۸۳ء۱؍ لاکھ ٹیلی کام وسائل کے خلاف کارروائی

Updated: August 04, 2026, 7:07 PM IST | New Delhi

وزارتِ مواصلات کے مطابق اس عرصے میں ۸۳ء۱؍ لاکھ ٹیلی کام وسائل کے خلاف کارروائی کی گئی، جبکہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ۲۶۳؍ بھیجنے والوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا۔

Telecom.Photo:INN
ٹیلی کام ۔ تصویر:آئی این این

حکومت ہند نے غیر مطلوب تجارتی کالز اور پیغامات (Unsolicited Commercial Communication - UCC) پر قابو پانے کے لیے مالی سال  ۲۷۔۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔ وزارتِ مواصلات کے مطابق اس عرصے میں  ۸۳ء۱؍ لاکھ ٹیلی کام وسائل  کے خلاف کارروائی کی گئی، جبکہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ۲۶۳؍ بھیجنے والوں    کو بلیک لسٹ کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:ٹام ہالینڈ اور زینڈیا تشہیری مصروفیات کے بعد وقفہ لیں گے


وزارت نے بتایا کہ بار بار قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے، جن میں آؤٹ گوئنگ سروسیز معطل کرنا، طویل مدت کے لیے کنکشن بند کرنا، تمام ٹیلی کام آپریٹرز کی سطح پر بلیک لسٹنگ اور ایس ایم ایس ہیڈرز کو بلاک کرنا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد اسپیم کالز اور تشہیری پیغامات کو مؤثر طریقے سے روکنا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی کے دوران ملک بھر میں ۸۲ء۷۳۰؍ ارب کالز  کی گئیں، جن میں سے صرف  ۸۵ء۱۰؍ لاکھ شکایات  غیر مطلوب تجارتی کالز اور پیغامات سے متعلق موصول ہوئیں۔ یعنی اوسطاً ہر  ۱۰؍ لاکھ کالز پر تقریباً ۵ء۱؍ شکایات  درج ہوئیں۔ وزارت نے بتایا کہ اسپیم کالز اور پیغامات کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام استعمال کیا جا رہا ہے، جس نے۴۳ء۲۴؍ارب مشتبہ اسپیم کالز اور ایس ایم ایس کی شناخت کی۔ اس سے صارفین کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد ملی کہ وہ ایسی کالز اور پیغامات کو نظر انداز کریں یا احتیاط کے ساتھ قبول کریں۔
حکومت نے مزید بتایا کہ ضوابط کی پابندی یقینی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر انتباہی نوٹس بھی جاری کیے گئے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر ۴۳ء۲؍ لاکھ سے زیادہ وارننگ پیغامات  بھیجے گئے تاکہ مشتبہ بھیجنے والوں کو قوانین پر عمل کرنے کی تنبیہ کی جا سکے۔وزارت کے مطابق ٹرائی ڈی این ڈی ایپ  اسپیم کی شکایات درج کرانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے، جہاں کل شکایات کا تقریباً ۸۹؍ فیصد درج کیا گیا۔ صارفین اس ایپ کے علاوہ اپنے ٹیلی کام آپریٹر کی ویب سائٹ، موبائل ایپ یا ۱۹۰۹؍ پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے بھی اپنی ڈو ناٹ ڈسٹرب  ترجیحات درج یا تبدیل کر سکتے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملک میں ۱۱۲؍ کروڑ سے زائد موبائل صارفین  نے اب تک اپنی ڈی این ڈی ترجیحات درج نہیں کروائیں، جس کی وجہ سے رجسٹرڈ ٹیلی مارکیٹرز اور کمپنیاں انہیں تشہیری کالز اور پیغامات بھیج سکتی ہیں۔ حکومت نے صارفین سے اپیل کی کہ اگر وہ غیر ضروری تشہیری رابطوں سے بچنا چاہتے ہیں تو ڈی این ڈی رجسٹری میں اپنی ترجیحات ضرور درج کرائیں۔

یہ بھی پڑھئے:فلسطینی فٹبال اسوسی ایشن کا فیفا پر اسرائیل کے خلاف قوانین نافذ نہ کرنے کا الزام


وزارت کے مطابق ڈی این ڈی نظام کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے ذریعے۴۸ء۱؍  ارب تشہیری کالز  اور ۳۰ء۷؍ ارب پروموشنل ایس ایم ایس  بلاک کیے گئے، جس سے صارفین کی پسند کا مؤثر طریقے سے احترام کیا گیا۔ اسی عرصے میں تقریباً  ۱۶ء۱۳؍ارب پروموشنل کالز  اور۰۶ء۲۴۸؍ ارب تجارتی ایس ایم ایس  مجاز مواصلاتی چینلز کے ذریعے بھیجے گئے۔ صارفین کی سہولت کیلئے ٹرائی  نے تشہیری کالز کی شناخت کے لیے ۱۴۰؍ سیریز  مختص کی ہے، جبکہ ۱۶۰۰؍ سیریز بینکنگ، مالیاتی خدمات، انشورنس اور سرکاری اداروں کی سروس اور لین دین سے متعلق کالز کے لیے مقرر کی گئی ہے، تاکہ عوام آسانی سے اہم اور سرکاری کالز کو پہچان سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK