Updated: March 12, 2026, 7:23 PM IST
| Madrid
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایران پر امریکی حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے درمیان کہا ہے کہ اسپین جنگ کی حمایت نہیں کرے گا اور بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے دفاع کے لیے اپنی پالیسی پر قائم رہے گا، جبکہ اس مؤقف پر امریکہ اور ہسپانوی اپوزیشن کی تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز۔ تصویر: آئی این این
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری جنگی کشیدگی کے تناظر میں اپنے ملک کی پالیسی کا دفاع کیا اور واضح کیا کہ اسپین کا مؤقف امن، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے احترام پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود جنگی راستہ اختیار نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق اسپین کی خارجہ پالیسی کا خلاصہ صرف تین الفاظ میں کیا جا سکتا ہے:’’جنگ نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: فریقوں کے ایک دوسرے پر ہزاروں حملے، جنگ بندی کی کوششیں تیز
اپنی تقریر میں انہوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ووکس کی تنقید کو بھی مسترد کیا، جن کا کہنا تھا کہ اسپین کی موجودہ پالیسی نے ملک کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ سانچیز نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا، ’’آپ نے سنا ہوگا کہ اسپین اکیلا ہے۔ یہی لوگ اس وقت بھی یہی کہہ رہے تھے جب ہم نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا تھا، اور پھر کئی دوسرے ممالک نے بھی اس کی پیروی کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اکیلے نہیں ہیں، ہم سب سے پہلے ہیں۔ جو لوگ واقعی اکیلے ہوں گے وہ وہ ہیں جو ناقابلِ دفاع مؤقف اختیار کرتے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں اسپین کے مؤقف پر فخر ہے اور دیگر ممالک بھی آہستہ آہستہ اسی موقف کی طرف آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہسپانوی ہونا فخر کی بات ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہم ظلم کے مقابلے میں کس چیز کے لیے کھڑے ہیں۔‘‘ سانچیز نے ایران کی حکومت پر اپنے عوام کے ساتھ سخت رویے کا الزام بھی لگایا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ کسی غیر قانونی اقدام کا جواب ایک اور غیر قانونی اقدام سے نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے کہا، ’’ہم ایک غیر قانونی عمل کا جواب دوسرے غیر قانونی عمل سے نہیں دیں گے۔ تشدد مزید تشدد کو جنم دیتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران سے ممکنہ جنگ بندی کا اشارہ، دعویٰ کیاتمام نشانے تباہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسپین کی پالیسی پر تنقید
اس بیان کے بعد امریکہ کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسپین کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر میڈرڈ نے نیٹو کے ساتھ تعاون نہیں کیا تو امریکہ اسپین کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ وہ بالکل تعاون نہیں کر رہے۔ اسپین بہت برا رویہ اختیار کر رہا ہے۔ ہم اسپین کے ساتھ تجارت منقطع بھی کر سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اسپین نیٹو کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔
یہ سفارتی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال شدت اختیار کر گئی۔ اسی دوران ٹرمپ نے بدھ کو ایک بیان میں ایران کے ساتھ جنگ میں کامیابی کا دعویٰ بھی کیا، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یہ کہنے دیں کہ ہم جیت گئے ہیں۔ آپ کبھی جلدی نہیں کہنا چاہتے کہ آپ جیت گئے، لیکن ہم جیت گئے۔ پہلے ہی گھنٹے میں یہ ختم ہو گیا تھا۔‘‘