رنویر سنگھ کے ’’ڈان ۳‘‘ چھوڑنے کی مبینہ وجہ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق اداکار فلم میں زیادہ ’’سخت زبان‘‘ اور تشدد چاہتے تھے جبکہ فرحان اختر اس کے خلاف تھے۔ تاہم یہ دعویٰ صرف رپورٹس پر مبنی ہے اور باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی۔
EPAPER
Updated: April 30, 2026, 6:01 PM IST | Mumbai
رنویر سنگھ کے ’’ڈان ۳‘‘ چھوڑنے کی مبینہ وجہ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق اداکار فلم میں زیادہ ’’سخت زبان‘‘ اور تشدد چاہتے تھے جبکہ فرحان اختر اس کے خلاف تھے۔ تاہم یہ دعویٰ صرف رپورٹس پر مبنی ہے اور باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی۔
بالی ووڈ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث پروجیکٹس میں سے ایک ’’ڈان ۳‘‘ ایک بار پھر خبروں میں ہے، جہاں رنویر سنگھ کی فلم سے علیحدگی کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق رنویر سنگھ کا خیال تھا کہ موجودہ دور کے ناظرین ایک زیادہ سخت اور پرتشدد ٹون کو پسند کرتے ہیں، اسی لیے وہ چاہتے تھے کہ فلم میں زبان اور انداز کو اسی کے مطابق بدلا جائے۔ ذرائع کے مطابق ’’رنویر کا ماننا تھا کہ ڈان کے کردار کو آج کے ایکشن سنیما کے معیار کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے، جس میں زیادہ شدت اور سختی شامل ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’بھوت پولیس ۲‘‘ میں اکشے کمار کی انٹری
دوسری جانب فرحان اختر اس خیال سے متفق نہیں تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ’’ڈان‘‘ میں امیتابھ بچن اور بعد میں شاہ رخ خان کے ورژنز نے بغیر گالی گلوچ کے بھی زبردست اثر قائم کیا تھا، اور اسی روایت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق ’’فرحان اپنی فلم کے وژن پر قائم تھے اور کسی دباؤ میں آ کر اس کے بنیادی انداز کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے تھے۔‘‘ یہ اختلاف بالآخر اس مقام تک پہنچا جہاں رنویر سنگھ نے فلم سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
واضح رہے کہ یہ تمام تفصیلات میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔ رنویر سنگھ اور فرحان اختر نے اس مخصوص وجہ کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ اس علیحدگی کے بعد ایک اور پہلو بھی سامنے آیا، جس میں بتایا گیا کہ ایکسل انٹرٹینمنٹ نے مبینہ طور پر تقریباً ۴۰؍ کروڑ روپے کے نقصانات کا دعویٰ کیا، جس میں پری پروڈکشن اور شیڈولنگ کے اخراجات شامل تھے۔ رپورٹس کے مطابق ’’پروڈکشن ٹیم کا کہنا تھا کہ رنویر کی منظوری کے بعد ہی فلم کا ابتدائی کام مکمل کیا گیا تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ورون دھون کی ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ اپنی اصل تاریخ پر ریلیز ہوگی
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اداکار نے اس رقم کا کچھ حصہ واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم اس پر بھی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہے۔ حال ہی میں فرحان اختر نے اس صورتحال پر عمومی انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے یہ سیکھا ہے کہ غیر متوقع حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جب تک فلم مکمل نہ ہو، کچھ بھی یقینی نہیں ہوتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ سفر اتار چڑھاؤ سے بھرا ہوتا ہے، اور چیلنجز اس کا حصہ ہیں جنہیں ہمیں قبول کرنا ہوتا ہے۔‘‘
’’ڈان ۳‘‘ کا مستقبل ابھی بھی غیر یقینی ہے، خاص طور پر مرکزی اداکار کی تبدیلی کے بعد۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ تخلیقی اختلافات بالی ووڈ کے بڑے پروجیکٹس میں عام ہیں، اور اکثر فلم کے حتمی انداز پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر فلم اپنے اصل انداز کو برقرار رکھتی ہے تو یہ فرنچائز کی شناخت کو محفوظ رکھ سکتی ہے، جبکہ نئے تجربات اسے جدید ناظرین کے قریب بھی لا سکتے ہیں۔