پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے قبل اپوزیشن لیڈروں کی کانگریس صدر کھرگے کی رہائش گاہ پر میٹنگ، حکمت عملی تیار کی گئی ، حکومت پر جلد بازی کا الزام
EPAPER
Updated: April 15, 2026, 11:50 PM IST | New Delhi
پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے قبل اپوزیشن لیڈروں کی کانگریس صدر کھرگے کی رہائش گاہ پر میٹنگ، حکمت عملی تیار کی گئی ، حکومت پر جلد بازی کا الزام
اپوزیشن پارٹیوں کی سخت مخالفت کے باوجود حدبندی کو نئی مردم شماری کے نتائج کے بغیر نافذ کرنے کی کوشش اورلوک سبھا کی سیٹیں بڑھا کر ۸۵۰؍ کرنے کے فیصلے کے خلاف اپوزیشن کی جماعتیں متحد ہوگئی ہیں۔ بدھ کو دہلی میں کانگریس صدر ملکا رجن کھرگے کی رہائش گاہ پر منعقدہ میٹنگ میں اپوزیشن کی جماعتوں نے حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا لیکن خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کا اشارہ بھی دیا۔ عام آدمی پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ لیڈروں نےکھرگے کی رہائش گاہ میٹنگ کی جس میں خواتین ریزرویشن اور حد بندی کے لئے آئینی ترمیم سے متعلق حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کے دوران کانگریس صدر نے زور دے کر کہا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ پارلیمنٹ میں خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کی ہے لیکن اس بل کو جس طریقے سے لایا جا رہا ہے اس پر وہ فکر مند ہیں۔ انہوںنے میٹنگ کے بعد کہا کہ ہم سب خواتین کے ریزرویشن بل کے حق میں ہیں، لیکن جس طریقے سے اسے لایا جا رہا ہے اس پر تحفظات ہیں۔ ہم خواتین کے ریزرویشن کی مسلسل حمایت کر رہے ہیں لیکن ہم اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ پہلے کی ترمیم کو لاگو کیا جائے لیکن مودی حکومت یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہے۔ اسی لئے سبھی جماعتوں نے اس بل کی مخالفت متحد ہو کر کرنے کافیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کرلیتی ہے تو ہم بل کی حمایت کریں گے۔
دریں اثناء راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی خواتین کے ریزرویشن کی واضح حمایت کرتی ہے۔پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر بل۲۰۲۳ء میں منظور کیا تھا اور یہ پہلے سے ہی ہمارے آئین کا حصہ ہے۔حکومت اب جو کچھ تجویز کر رہی ہے اس کا خواتین کے ریزرویشن سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ ترمیم حد بندی کا استعمال کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے۔ہم ذات پر مبنیمردم شماری کے اعداد و شمار کو نظر انداز کرکے او بی سی، دلت اور آدیواسی برادریوںکی حصہ چوری کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم جنوبی، شمال مشرقی، شمال مغربی اور چھوٹی ریاستوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک نہیں ہونے دیں گے۔
میٹنگ میں کانگریس، ڈی ایم کے، ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی، راشٹریہ جنتادل ، سی پی آئی اور سی پی آئی ایم کے لیڈران موجود تھے۔میٹنگ میںکھرگے اور راہل گاندھی کے علاوہ ٹی آر بالو، تیجسوی یادو، ساگاریکا گھوش، سنجے رائوت ،اروند ساونت اور سپریا سلےشامل تھے جبکہ اکھلیش یادو ورچوئل طریقہ سے شامل ہوئے۔ ان کے علاوہ اینی راجہ، نیلوتپل باسو، سنجے سنگھ، کپل سبل، ای ٹی محمد بشیر اور این کے پریم چندرن نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے خواتین ریزرویشن ایکٹ اور حد بندی سے متعلق قانون میں تر میم کیلئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے جو ۱۶؍اپریل سے شروع ہونے جارہاہے۔ یہ سہ روزہ اجلاس ہو گا جس میں حکومت لوک سبھا کی سیٹوں کو موجودہ۵۴۳؍ سے بڑھا کر ۸۵۰؍ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔اسی کی سب سے زیادہ مخالفت ہو رہی ہے کیوں کہ حکومت سیٹوں کی تعداد میں اضافہ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق کرنا چاہ رہی ہے جبکہ اپوزیشن پارٹیوں کا مطالبہ ہے کہ سیٹوں کی حد بندی ۲۰۲۶ء کی مردم شماری کی تکمیل کے بعد ہی کی جائے۔اس سے ملک کی آبادی کی اصل تصویر سامنے آئے گی اور پھر سیٹوں کو بڑھانے میں کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔