Inquilab Logo Happiest Places to Work

الہ آباد ہائی کورٹ کے جج شیکھر کمار یادو سبکدوش

Updated: April 16, 2026, 9:33 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شیکھر کمار یادو بدھ کو سبکدوش ہو گئے۔ وہ دسمبر ۲۰۲۴ء میں د ئیے گئے اپنے متنازع بیانات کے بعد شدید تنقید کی زد میں رہے تھے۔ جن کا بعد میں سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیا اور ان کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک بھی پیش کی گئی۔

Justice Shekhar.Photo:INN
جسٹس شیکھر۔ تصویر:آئی این این
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شیکھر کمار یادو بدھ کو سبکدوش ہو گئے۔ وہ دسمبر ۲۰۲۴ء میں د ئیے گئے اپنے متنازع بیانات کے بعد شدید تنقید کی زد میں رہے تھے۔ جن کا بعد میں سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیا اور ان کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک بھی پیش کی گئی، جو گزشتہ ایک سال سے زیر التوا ہے اور اب ان کی سبکدوشی کے ساتھ ہی مواخذے کی تحریک بھی ختم ہوجائے گی۔ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے اعزاز میں منعقدہ ’فل کورٹ ریفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس یادو نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور اصل غلطی ان لوگوں کی تھی جنہوں نے اسے غلط انداز میں پیش کیا۔انہوں نے بار کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں وکلاء نے ان کا ساتھ دیا، ورنہ وہ ٹوٹ جاتے۔جسٹس شیکھر  نے خطاب میں اپنے عدالتی دور کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی کے ساتھ مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا  ۔واضح رہے کہ وی ایچ پی  کے ایک پروگرام میں جسٹس شیکھر نے مسلمانوں کے تعلق سے نہایت  متنازع ریمارکس د ئیے تھے۔
 
 
اپنے بیان  میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت اکثریتی آبادی یعنی ہندوؤں کی خواہش کے مطابق چلے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی خاص مذہب کے بچوں سے روادار ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ ان کے سامنے جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے۔ان کی متنازع تقریر کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سنجیو کھنہ نے جسٹس شیکھر یادو کو طلب کیا تھا اور وضاحت طلب کی تھی۔ ان کے بعض بیانات کو مذہبی ہم آہنگی کے منافی قرار دیا گیا تھا۔
 
 
آل انڈیا لائرز یونین نے اسے نفرت انگیز تقریر قرار دیتے ہوئے صدرِ مملکت اور اس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔اسی دوران اپوزیشن کے ۵۵؍ اراکین پارلیمنٹ نے دسمبر۲۰۲۴ء میں ان کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی پیش کی تھی جس پر دستخط کرنے والوں میں کپل سبل، دِگ وجے سنگھ اور دیگر نمایاں نام شامل تھے۔ تاہم یہ کارروائی اب تک زیر التوا ہے۔وہ ۲۰۱۹ء میں ایڈیشنل جج اور۲۰۲۱ء میں مستقل جج مقرر ہوئے تھے۔ ان کے ریٹائرمنٹ پر ہائی کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کے ذریعے انہیں الوداع کہا گیا، جہاں انہوں نے نوجوان وکلاء کو عدالتی طریقہ کار اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے حوالے سے بھی ہدایات دیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK