پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی بگڑتی صحت کی وجہ ناقص طبی سہولیات کو قرار دیا ہے،پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ طویل حراست اور طبی سہولیات تک رسائی پر پابندیوں نے ان لیڈروں کو درپیش مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 15, 2026, 10:08 PM IST | Islamabad
پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی بگڑتی صحت کی وجہ ناقص طبی سہولیات کو قرار دیا ہے،پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ طویل حراست اور طبی سہولیات تک رسائی پر پابندیوں نے ان لیڈروں کو درپیش مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک بار پھر اپنے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور سینئر لیڈراعجاز چودھری کی صحت کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بگڑتی طبی حالت کاذمہ دار نظراندازی اور طبی سہولیات تک محدود رسائی کو قرار دیا ہے۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ طویل حراست اور طبی سہولیات تک رسائی پر پابندیوں نے ان لیڈروںکو درپیش مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے ہر ایک کے معاملے میں سنگین پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: چینی صدر شی جن پنگ نے مغربی ایشیا کیلئے چار نکاتی امن منصوبہ پیش کیا
معروف پاکستانی روزنامہ ڈان کے ادارتی مضمون کے مطابق، عمران خان اور بشریٰ بی بی سنگین آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ چودھری کی گردے کی بیماری تیسرے مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ بعد ازاں پارٹی نے عمران خان، ان کی اہلیہ اور چودھری کو مناسب طبی سہولیات میں منتقل کرنے اور ان کا علاج ذاتی معالجین سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ زیادہ احتیاط اور دیکھ بھال سے علاج ہو سکے۔اخبار کے مطابق، پارٹی کی طرف سے اٹھائے گئے مطالبات غیر معقول نہیں ہیں اور حکام کو ان سے اتفاق کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ان قانون سازوں (بشمول کینسر سے بچ جانے والی یاسمین راشد) کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے، جبکہ وہ اپنی فلاح و بہبود کے لیے مکمل طور پر حکومت پر منحصر ہیں۔ڈان کے مطابق قیدیوں کی صحت اور فلاح و بہبود کو تنازع کا موضوع نہیں بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا: کسی ایسے فرد کو جو پہلے ہی اپنی شہری آزادی سے محروم کر دیا گیا ہو، طویل قید تنہائی میں ڈال کر، یا اس کے خاندان اور ذاتی معالجین تک رسائی کو محدود کر کے، یا شدید بیمار قیدیوں کو مناسب طبی سہولیات میں منتقل کرنے میں تاخیر کر کے کوئی اضافی `انصاف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ، یہ اشارہ دے کر کہ ملک کے انتظامی اور عدالتی میکانزم ایک مہذب ریاست سے متوقع کم از کم معیارات سے بہت کم کام کر رہے ہیں اس طرح کے اقدامات صرف عوام کا پورے نظام پر اعتماد ختم کر دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمز پر ہندوستان سے ٹول نہیں: ایرانی سفیر کا ہندوستانی جہازوں کی حفاظت کا تیقن
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ، عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے اپنے والد کی حراست کو ’’من مانا‘‘ قرار دیا اور پاکستانی حکام کے طرز عمل پر شدید تحفظات اٹھائے، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی منثورکی خلاف ورزی ہے۔مزید برآں جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کے اجلاس کے دوران، قاسم خان نے کہا کہ عمران خان کا معاملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ۲۰۲۲ء کے بعد پاکستان میں جبر کے ایک بہت وسیع نمونے کی سب سے زیادہ نمایاں مثال تھی۔ انہوں نے سیاسی قیدیوں کی حراست، فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات اور سزا، اور صحافیوں کوخاموش کرنے، اغوا یا جلاوطنی پر مجبور کرنےکے بارے میں بات کی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے متعلق عالمی مزاج بدل رہا ہے،عملی اقدامات کا مطالبہ: فلسطینی وزیرخارجہ
قاسم خان، جنہوں نے کہا کہ ان کے والد کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، نے فروری ۲۰۲۴ءمیں پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے بارے میں بھی بات کی اور پی ٹی آئی کے الزامات کو دہرایا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت بین الاقوامی انسانی حقوق کے کنونشن، بشمول شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہد نامے اور اقوام متحدہ کے تشدد کے خلاف کنونشن کو برقرار رکھنے کے وعدے کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنے خاندان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے اور انہیں طبی دیکھ بھال سے انکار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس پر بھی روشنی ڈالی کہ فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے مزید کہا، ’’میرا بھائی اور میں سیاسی فرد نہیں ہیں۔ ہم کبھی بھی اس طرح کے فورم کے سامنے آنا نہیں چاہتے تھے۔لیکن میرے والد کی زندگی تقاضا کرتی ہے کہ ہم کارروائی کریں۔جب کہ ان کی صحت بگڑ رہی ہے اور وہ ہم سے دور رکھے گئے ہیں، ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے ۔ اگر صورت حال الٹ ہوتی، تو ہم جانتے ہیں کہ وہ اس وقت تک لڑنا نہیں چھوڑتے جب تک ہم آزاد نہ ہو جاتے۔ یہ کمترین جدوجہد ہے جو ہم ان کے لیے کر سکتے ہیں۔‘‘