Updated: September 11, 2026, 4:07 PM IST
| New York
۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کے دہشت گرد حملوں کی ۲۵؍ ویں برسی سے قبل نیویارک ہاربر میں ۲؍ ہزار ۹۷۷؍ روشن ڈرونز کے ذریعے ٹوئن ٹاورز کا دلکش خاکہ پیش کیا گیا۔ ہر ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے ایک فرد کی علامت تھا، جس نے آسمان پر ایک جذباتی اور یادگار منظر تخلیق کردیا۔
بدھ کی رات نیویارک ہاربر روشنیوں کے سمندر میں تبدیل ہوگیا، جہاں ۲؍ ہزار ۹۷۷؍ روشن ڈرونز نے ۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں آسمان میں پرواز کی۔ ’۲؍ ہزار ۹۷۷؍ لائٹس اوور نیویارک ہاربر‘ کے عنوان سے ہونے والی اس عوامی فنکارانہ تنصیب میں ہر متاثرہ شخص کی نمائندگی کیلئے ایک ڈرون استعمال کیا گیا۔ ابتدا میں ڈرونز آسمان پر مختلف انداز میں حرکت کرتے رہے، جس کے بعد وہ آہستہ آہستہ ایک ترتیب میں آئے اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بلند و بالا ٹوئن ٹاورز کا خاکہ تشکیل دیا۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ روشن ڈرونز نیویارک ہاربر کے اوپر ایک دوسرے کے قریب آتے گئے اور رات کے آسمان پر ٹوئن ٹاورز کی تصویر بنا دی۔ یہ خراجِ عقیدت ۱۱؍ ستمبر کے دہشت گرد حملوں کی ۲۵؍ ویں برسی سے دو روز قبل پیش کیا گیا۔
منصوبے کے تخلیقی ڈائریکٹر اور ایگزیکٹو پروڈیوسر ایڈیسن مہر نے کہا، ’’۲؍ ہزار ۹۷۷؍ لائٹس کا مقصد ۱۱؍ ستمبر کی اجتماعی تاریخ اور یادداشت کے اندر ہر فرد کے نقصان کو تسلیم کرنا ہے۔ ہم ہر ایک انسانی زندگی کی یاد کو زندہ رکھنے کیلئے عین اتنی ہی روشنیاں کرتے ہیں۔‘‘ یہ مظاہرہ نیویارک کے سالانہ ’ٹریبیوٹ اِن لائٹ‘ پروگرام کے ساتھ منعقد ہوا، جس کی روشنی کی شعاعیں گراؤنڈ زیرو سے بھی دکھائی دے رہی تھیں۔ ڈرونز کا یہ مظاہرہ عوام کیلئے مفت تھا اور اسے نیویارک فاؤنڈیشن فار دی آرٹس کی سرپرستی حاصل تھی۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق، ہاربر کے اوپر ڈرونز کی اس تنصیب کے دوران دیگر چھوٹے طیاروں کی پروازیں بھی کئی گھنٹوں کیلئے روک دی گئی تھیں۔
منتظمین کے مطابق یہ منصوبہ ۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کے دہشت گردانہ حملوں سے متاثرہ کمیونٹی کے افراد، جن میں متاثرین کے اہل خانہ، حملوں سے بچ جانے والے افراد اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے اہلکار شامل تھے، سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا۔ اے بی سی ۷؍ کے مطابق حملوں سے وابستہ متعدد افراد نے بھی اس تنصیب کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ ان میں نیویارک فائر ڈپارٹمنٹ (FDNY) کی سابق امدادی اہلکار اور فنکار برینڈا برک مین، ۱۹۹۳ء اور ۲۰۰۱ء میں FDNY کے امدادی اہلکار ٹم براؤن، ۹/۱۱؍ فیملیز یونائیٹڈ کی صدر اور ٹام اسٹرادا کی بیوہ ٹیری اسٹرادا، نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) کی افسر موئرا اسمتھ کے شوہر جم اسمتھ، اور اسٹیفن سِلر کی بیٹی جینیویو سِلر شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین میں پناہ کی درخواستیں ۲۰۲۱ء کے بعد کم ترین سطح پر
اس منظر نے آن لائن لوگوں کو جذباتی کردیا اور متعدد افراد نے آسمان پر ایک بار پھر ٹوئن ٹاورز کا عکس دیکھنے کی اہمیت پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’یہ ان لوگوں کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک دل کو چھو لینے والا اور پُراسرار حد تک خوبصورت طریقہ ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ منظر دل کو چھو گیا۔ ۲۵؍ سال بعد ایک بار پھر آسمان پر ٹاورز کو دیکھنا... انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک طاقتور طریقہ ہے۔‘‘ ایک اور شخص نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ’’جب ہم جوان تھے تو ٹوئن ٹاورز نیویارک شہر کی ایک نمایاں علامت تھے۔ وہ صرف عمارتیں نہیں تھیں؛ چاہے رات کتنی ہی دیر ہوچکی ہو، ہم کتنے ہی نشے میں ہوں یا راستہ بھٹک گئے ہوں، آپ کو صرف آسمان کی طرف دیکھنا ہوتا تھا، ٹاورز نظر آتے تھے اور آپ کو معلوم ہوجاتا تھا کہ آپ کہاں ہیں۔ وہ ہمارے لیے قطبی ستارے کی مانند تھے۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’۱۱؍ ستمبر کی ۲۵؍ ویں برسی سے قبل روشن ڈرونز نے نیویارک کے اوپر ٹوئن ٹاورز کا خاکہ تشکیل دیا، جبکہ ساتھ ہی ’ٹریبیوٹ اِن لائٹ‘ کی روشن شعاعیں بھی دکھائی دے رہی تھیں۔‘‘