روس کو یوکرین جنگ ختم کرنے کیلئے مجبور کرنے کیلئے اس پر مزید پابندیاں لگائی گئیں،روس کے ہیروں اور دیگر اہم دھاتوں پر برطانیہ نے پابندی عائد کی، امریکہ کا بھی پابندیوں کا اعلان
امریکہ اور برطانیہ نےروس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں اتحادی ممالک کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے،جب دنیا کی۷؍بڑی معیشتوں پر مشتمل ممالک کے جی ۷؍ گروپ کا سربراہی اجلاس جمعہ کو جاپان میں شروع ہوا۔برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ روسی ہیروں کی تجارت کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے،جبکہ کئی خبر رساں اداروں نے اطلاع دی ہےکہ واشنگٹن نے ان اداروں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے، جو موجودہ پابندیوں کوروکنے میں ماسکو کی مدد کر رہے ہیں۔اپنی بات چیت سے قبل سربراہان مملکت نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جاپانی شہر ہیروشیما پر گرائے گئےایٹم بم کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔
روسی ہیروں پر پابندیاں
برطانیہ کےوزیر اعظم رشی سونک نے روسی ہیروں،تانبا،المونیم اورنکل سمیت دھاتوں کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا۔ سونک حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی، دھاتوں اور جہاز رانی کی صنعتوں سے وابستہ افراد کے علاوہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے’فوجی-صنعتی کمپلیکس‘ میں شامل اضافی۸۶؍افراد اور کمپنیوں کو بھی نئی پابندیوں کے ذریعےنشانہ بنایا جائےگا۔مجموعی طور پرجی سیون سے توقع ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف جنگ پر روس کے خلاف موجودہ پابندیوں کو مزید سخت کرے گا اور روس سے کئی بلین ڈالرکے خام ہیروں کی برآمدپرپابندیوں کا اعلان کرے گا۔یورپی کونسل کے صدر شارل مشیل نے بھی جمعہ کو کہا کہ یورپی بلاک روسی ہیروں کی تجارت کو محدود کرنا چاہتا ہے۔
روس پر نئی امریکی پابندیاں
اس کے علاوہ متعدد ذرائع ابلاغ نے امریکی حکومت کےایک سینئر اہلکار کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ واشنگٹن، ماسکو کے خلاف پابندیوں کا نیا پیکیج لا رہا ہے۔ اس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے،’’تمام جی ۷؍اراکین نئی پابندیوں اور برآمدی کنٹرول کو نافذ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن امریکہ اپنا ایک قابل ذکرپیکیج تیار کرے گا۔‘‘ امریکی اقدامات میں روس اور دیگر ممالک کی تقریباً ۷۰؍کمپنیوں کو امریکی برآمدات سے منقطع کرنا شامل ہے۔جرمن چانسلر اولاف شولزنےکہا ہے کہ برلن روس پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے عملی اقدامات چاہتا ہے۔