Updated: January 02, 2026, 8:59 PM IST
| Stockholm
سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سیکڑوں افراد نے نئے سال کی تقریبات منسوخ کر کے غزہ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کیلئے مظاہرہ کیا۔ شدید سردی کے باوجود مظاہرین نے اسرائیلی حملوں کے خلاف آواز بلند کی، فوری جنگ بندی، خوراک کی قلت کے خاتمے اور سویڈن کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا۔
اسٹاک ہوم میں غزہ کی حمایت میں نکالے گئے مارچ کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
— سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں نئے سال کی شام ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا، جب سیکڑوں افراد نے جشن منانے کے بجائے غزہ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کیلئے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق، شدید سردی اور نقطۂ انجماد سے نیچے درجۂ حرارت کے باوجود مظاہرین بدھ کی رات دیر گئے شہر کے مرکزی علاقے سیگلز ٹورگ اسکوائر میں جمع ہوئے۔ یہ احتجاج متعدد سول سوسائٹی تنظیموں کی اپیل پر منعقد کیا گیا تھا۔ منتظمین نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ نئے سال کی خوشیاں منانے کے بجائے ان بچوں اور عام شہریوں کیلئےسوگ منائیں جو غزہ میں اسرائیلی حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں جشن منانا ان کے ضمیر کو قبول نہیں۔مظاہرین کے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈز اور بینرز تھے جن پر درج تھا:
’’غزہ میں بچے مارے جا رہے ہیں‘‘،
’’اسکولوں اور اسپتالوں پر بمباری ہو رہی ہے‘‘،
’’فوری جنگ بندی پر عمل کیا جائے‘‘،
اور ’’خوراک کی قلت ختم کرو۔‘‘
ان نعروں کے ذریعے مظاہرین نے غزہ میں جاری صورتحال کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے فوری طور پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سویڈن کی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کو اسلحے کی فروخت فوری طور پر روکے اور انسانی حقوق کے مؤقف پر واضح اور عملی قدم اٹھائے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کو محاصرے، بمباری، بھوک اور سردی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ دنیا کا ایک بڑا حصہ نئے سال کی تقریبات میں مصروف ہے۔
منتظمین کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’’نئے سال میں ہم فلسطین میں اجتماعی ہلاکتوں، محاصروں اور ان واقعات پر اختیار کی جانے والی خاموشی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم ایک نئے سال کا آغاز اس طرح نہیں کر سکتے کہ ناانصافی سے آنکھیں بند کر لیں۔‘‘ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسرائیل فلسطین کے ساتھ کئےگئے امن معاہدوں اور وعدوں کی پابندی نہیں کر رہا۔ منتظمین کے مطابق، عالمی قوانین اور انسانی اقدار کے باوجود فلسطینی عوام کو مسلسل تشدد اور اجتماعی سزا کا سامنا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’جب دنیا نئے سال میں داخل ہو رہی ہے، فلسطین میں نسل کشی جاری ہے۔ جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود فلسطینی مارے جا رہے ہیں، محاصرہ برقرار ہے، اور لوگ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں وہ سردی سے ٹھٹھر کر جان دے رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ترکی :نئے سال کے پہلے دن استنبول میں غزہ مارچ ، ۵؍لاکھ افراد کی شرکت
مظاہرین نے کہا کہ غزہ میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ خوراک، پانی، ادویات اور محفوظ رہائش کی عدم دستیابی نے عام شہریوں، خصوصاً بچوں اور بزرگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی طاقتیں واقعی انسانی حقوق کی داعی ہیں تو انہیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے، محض بیانات کافی نہیں۔ واضح رہے کہ یہ احتجاج سویڈن میں غزہ کے حق میں ہونے والے مسلسل مظاہروں کا حصہ ہے۔ گزشتہ مہینوں میں بھی اسٹاک ہوم اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد فلسطینی عوام کے حق میں مظاہرے کر چکے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک آواز اٹھاتے رہیں گے جب تک غزہ میں تشدد کا خاتمہ اور انصاف کی بحالی نہیں ہوتی۔