Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ غزہ میں صحافیوں ، عام شہریوں اور بچوں کا قتل عام بند کرو‘‘

Updated: August 30, 2025, 12:39 PM IST | Mumbai

اسرائیلی جارحیت کیخلاف صحافیوں کی تنظیم کی احتجاجی نشست میں اظہار خیال، فلسطینی سفیر عبداللہ ایم ابو شویش نے بھی شرکت کی

Protest participants displaying Indian and Palestinian flags. Photo: Inquilab
احتجاجی نشست کے شرکاء ہندوستانی اور فلسطینی پرچم دکھاتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب

غزہ میں اسرائیل کی جارحیت ، صحافیوں کے قتل اور اب تک مجموعی طور پر ۶۵؍ہزار فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف جمعہ کو مراٹھی پترکار سنگھ میں خصوصی احتجاجی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس نشست میں حال ہی میں منتخب کئے گئے فلسطینی سفیر عبداللہ ایم ابوشویش (دہلی) نے بطورخاص شرکت کی اور اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر  ایک بڑا بینر آویزاں کیا گیا تھا جس پر شہید کئے گئے صحافیوں اور معصوم بچوں کی تصاویر کو نمایاں کرتے ہوئے جلی حروف میں لکھا گیا تھا ’’ اسٹاپ کلنگ جرنلسٹس اِن غزہ‘‘ ، ’’اسٹاپ دی جینو سائڈ‘‘ 
  فلسطینی سفیر برائے ہند عبداللہ ایم ابوشویش نے کہا کہ یہ بڑی اہم نشست ہے کہ فلسطین اور غزہ میں صحافیوں کے قتل کی مذمت کی جارہی ہے مگر میں بڑی ذمہ داری سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آج میڈیا پر پوری طرح کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک فلسطین اور غزہ میں۲۷۰۰؍ سے زیادہ صحافیوں کو باقاعدہ ٹارگٹ کیا جاچکا ہے۔

  اس میں بھی بطور خاص فلسطینی صحافیوں کو، جو الجزیرہ اور دیگر چینلوں سے وابستہ تھے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کیا گیا اور ان کی مسلسل نسل کشی کی جارہی ہے۔ کیا ان کو اپنی زمین اور اپنا تحفظ کا حق نہیں ہے۔فلسطینی سفیر  کے مطابق کس قدر شرمناک ہے کہ معصوم بچوں کا قتل کھیل   اور تماشہ بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ سیکڑوں فلسطینی بچے  بھوک سے دم توڑ چکے ہیں۔ دن رات اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم ڈھارہا ہے اور ان کو پوری طرح ختم کرنے کے درپے ہے۔ کیا اپنی زمین سے غاصبانہ قبضہ ختم کرانے، اپنا دفاع اور اپنے تحفظ کی کوشش جرم‌ ہے؟ اگر نہیں تو یہی فلسطینی کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اس تعلق سے مغربی میڈیا کا رول انتہائی شرمناک ہے۔ انہوں نے اخیر میں یہ اپیل کی جس قدر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی ہوگا اتنا ہی ہماری طاقت بڑھے گی۔
 سینئر صحافی سری نواسن جین نے کہا کہ غزہ میں صحافیوں کو منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ قدم قدم پر رکاوٹ کھڑی کی جاتی ہے، پھر بھی وہ اپنی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔ مگر یہ بھی کم‌ اہم نہیں کہ مغربی میڈیا کا رول اور طریقہ کار بالکل مختلف ہے۔  یہ اعتراف تو اسرائیلی فوجی اور کمانڈر بھی کرچکے ہیں کہ باقاعدہ نشان زد کرکے عمارتوں کو ‌نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کے مظالم کا احتساب ضروری ہے اور صحافیوں کا قتل فورا بند کیا جانا چاہئے۔ سینئر صحافی گوتم نولکھا نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ فلسطینیوں کے قتل عام اور غزہ کی تباہی پر سول سوسائٹی خاموش کیوں ہے، یہ بہت زیادہ حیران کن ہے۔ پریس کلب کے سربراہ گربیر سنگھ نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ فلسطینیوں پر اسرائیل مسلسل مظالم ڈھارہا ہے ، ان کی زمینوں پر قبضہ کررہا ہے اور منظم انداز میں صحافیوں، ریسرچ کرنے والوں اور امن پسندوں کو بھی قتل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس اور اس کے ذریعے کئے گئے حملوں کے درست یا غلط ہونے کی بحث سے قطع نظر اسکولوں پر بمباری، بچوں کا قتل، آبادیوں اور اسپتالوں پر بمباری ، پانی سپلائی ختم کرنا اور غذا کی قلت، کہاں کا انصاف ہے؟
 فیروز میٹھی بور والا نے پریس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کا صحافیوں کے قتل کا صاف مقصد اس کے مجرمانہ عمل  سے پردہ اٹھانے اور مظالم کی انتہا دنیا تک پہنچانے سے روکنا ہےلیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ صحافیوں کے دفاتر پر حملے اس لئے بھی شرمناک ہیں کیونکہ ان کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس میں کہیں نہ کہیں  امریکہ، فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک کے سربراہان کی اسرائیل کی پشت پناہی شامل ہے۔ آج  غزہ کے رہنے والوں کو منصوبہ بند طریقے سے ختم کرنے کا پلان بنایا گیا ہے، اسے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم فلسطینیوں کے جذبے اور حوصلے کو سلام کرتے ہیں کہ نسل کشی اور بے سروسامانی کے باوجود وہ ڈٹے ہوئے ہیں  ۔
   روزنامہ ہندوستان کے مدیر سرفراز آرزو نے کہا کہ دنیا کے کئی دیگر ممالک کی جنگوں میں مجموعی طور پر اتنے صحافی نہیں مارے گئے جتنے تنہا فلسطین میں مارے جاچکے ہیں، اب تک سیکڑوں صحافی اور فوٹو جرنلسٹ مارے جاچکے ہیں۔ انہوں نے رائٹر سے وابستہ جرنلسٹ انس کا بطور خاص تذکرہ کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انس کی شہادت پر اسرائیل کی مذمت کرنے کے بجائے رائٹر جیسی ایجنسی اسرائیل کے جھوٹ کو آگے بڑھا رہی ہے۔سرفراز آرزو نے حکو‌مت ہند کے حوالے سے کہا کہ خود کو وشوگرو کہلوانے کی  رٹ لگانے والی ہندوستانی حکومت کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ اس نے ایسا کوئی رول ادا نہیں کیا جسے مستحکم قدم قرار دیا جائے، صحافیوں کے قتل کی مذمت تو کی مگر بہت ہی ہلکے انداز میں۔ اس کے علاوہ یہ بھی اہم ہے کہ گرچہ تاخیر سے ہی سہی، صحافیوں کی تنظیموں نے صحافیوں کے قتل کی مذمت میں احتجاجی نشست منعقد کی۔ فری فری فلسطین‌ کے نعرے پر احتجاجی نشست ختم ہوئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK