وزیر ٹرانسپورٹ نےسائبر کرائم سیل اور ایڈیشنل ڈی جی پی کو خط لکھا، بائیک ٹیکسی کمپنیوں کے مالکان پر ایف آئی آ ر درج کرنے کی ہدایت دی۔
گزشتہ چند مہینوں میںغیر قانونی بائیک ٹیکسی چلانے والوں سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ تصویر:آئی این این
ٹرانسپورٹ منسٹر پرتاپ سرنائیک نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور سائبر کرائم سیل کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ غیرقانونی طور پر بائیک ٹیکسی سروس فراہم کرنے والے اولا، اوبر اور ریپیڈو کے ایپ کو بند کیا جائے اور ان کمپنیوں کے مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے حکومت سے منظوری یا اجازت کے بغیر اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسافروں کی نقل و حمل کیلئے ناجائز طور پر بائیک ٹیکسی چلائے جانے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔
پرتاپ سرنائیک کے مطابق جو شکایتیں موصول ہورہی ہیں ان کے مطابق ان غیرقانونی بائیک ٹیکسیوں، خصوصاً ریپیڈو کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ عوام کے تحفظ کے نقطہ نظر سے سنگین مسئلہ ہے۔ غیرقانونی طور پر بائیک ٹیکسی مسافروں کیلئے کس طرح خطرناک ہوسکتی ہے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس میں ڈرائیور کی کوئی تصدیق نہیں ہوتی، نہ انشورنس کا کوئی پتہ ٹھکانہ ہوتا ہے، خواتین کی حفاظت کیلئے ضروری اقدامات اور ایمرجنسی ریسپانس سسٹم ناکافی یا سرے سے ہوتے ہی نہیں۔
خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان گاڑیوں کی وجہ سے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایک حالیہ حادثہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں لکھا کہ مضافات کے ملنڈگوریگائوں لنک روڈ پر ایک غیر قانونی بائیک ٹیکسی کے حادثہ کا شکار ہونے سے ایک خاتون کی موت ہوگئی جس کے تعلق سے نو گھر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان گاڑیوں کے حادثات کے تعلق سے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں کیس درج ہورہے ہیں۔ علاوہ ازیں محکمہ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ حکومت کے ٹرانسپورٹ قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان ایپس کے ذریعے مالی لین دین کیا جا رہا ہے جس سے لائسنس یافتہ رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کا کاروبار غیر منصفانہ طور پر متاثر ہو رہا ہے۔ اس تشویش کا بھی اظہار کیا گیا ہے قانون کے خلاف جانے والا یہ نظام ریاست کے ٹرانسپورٹ سسٹم کے لئے سنگین چیلنج بن رہا ہے۔سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ سے کیے گئے مطالبات میں غیر مجاز بائیک ٹیکسی ایپس کی آن لائن کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے، متعلقہ ایپ کمپنیوں، ڈرائیوروں اور انتظامیہ کے خلاف انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور موٹر وہیکلز ایکٹ کے تحت سخت کارروائی اور کمپنی مالکان کے خلاف کیس درج کرنا شامل ہے۔پرتاپ سرنائیک نے اس سلسلے میں بیان دیا ہے کہ ریاستی حکومت شہریوں کی حفاظت کے لئے پرعزم ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی غیر مجاز نظام کی حمایت نہیں کرے گی۔