ملاوٹی پنیر کےمعاملات پر قدغن لگانے کیلئے ہوٹلوں، ریستوراں، کیٹرنگ سروس فراہم کرنے والوں اور فوڈ وینڈرز کیلئے لازمی کیا گیا ہے کہ وہ فروخت کی رسیدوں، مینو کارڈز اور قیمتوں کی فہرستوں پر ’چِیز اینالاگ‘ کا واضح طور پر تذکرہ کریں۔
اچھا چیز۔ تصویر:آئی این این
کتنے کاروباری اس پر عمل کر رہے ہیں اس کی جانچ کیلئے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن( ایف ڈی اے ) نے’چِیز اینالاگ‘ کے حوالے سے ریاست بھر میں ایک خصوصی معائنہ مہم چلائی ہے۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے وزیر نرہری جروال نے تمام ڈویژنل فوڈ جوائنٹ کمشنروں کو اس پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس اصول پر یکم مئی۲۰۲۶ءسے سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ریاست گیر خصوصی معائنہ مہم کے پہلے ۱۰؍ دنوں میں ایک ہزار ۴۹۶؍ اداروں کا معائنہ کیا گیا ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا( ایف ایس ایس اے آئی)نے مہاراشٹر میں وزیر جروال کی طرف سے شروع کی گئی اس مہم کا نوٹس لیا ہے۔ اس لئے امید کی جارہی ہے خالص پنیر کیلئے مہاراشٹر میں شروع کی گئی مہم کو اب پورے ملک کیلئے رہنما بن جائے گی۔
ایف ڈی اے کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ممبئی، کوکن، پونے، ناسک، چھترپتی سمبھاجی نگر، ناگپور اور امراؤتی ڈویژنوں میں وسیع پیمانے پر معائنہ کیا گیا۔ ریاست بھر میں۲۷۵؍ فوڈ سیفٹی افسران نے کل ایک ہزار ۴۹۶؍شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ کا معائنہ کیا۔ ان میں سے ۸۷۱؍ اسٹیبلشمنٹ کو قواعد کے مطابق ’پنیر اینالاگ‘ کا ذکر پایا گیا۔ایف ڈی اے نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی پروڈکٹ کو خریدتے وقت اس پر دیئے گئے معلوماتی کتابچے کو غور سے پڑھیں ، گمراہ کن اطلاع پر ٹول فری نمبر۱۸۰۰۲۲۲۳۶۵؍پر شکایت درج کرائیں۔
عزیزیہ میں مقیم عازمین کومنٰی جانے کیلئے رہنمائی
عزیزیہ میںعازمین کومنٰی جانے کی تیاری کے تعلق سےرہنمائی کی جارہی ہے اورحج کے ارکان کی بہترطریقے سے ادائیگی کے لئے معلومات فراہم کرائی جارہی ہیں۔
عزیزیہ میںمقیم عازمینِ حج نےنمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئےبتایاکہ ’’ کچھ دشواریاں ضرور ہیں مگر اب ساری توجہ حج بیت اللہ کے ارکان کی ادائیگی پر ہیں۔ عمارتوں کے نیچےبنائے گئے عبادت خانے میں عازمین کو مختلف اوقات میں ارکان کی ادائیگی، منیٰ روانگی کے آداب اور حج سے متعلق دیگر معلومات فراہم کرائی جارہی ہیںتاکہ عازمین یکسوئی کے ساتھ ا سے ادا کریں ۔عازمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ اب حج کے ایام شروع ہونے والے ہیں ،اس لئے دنیا کے مختلف ملکوں سے لاکھوں عازمین پہنچ چکے ہیں۔ مختلف رنگ ونسل کے بڑی تعداد میںعازمین کی موجودگی کے سبب منظر روحانی ہوگیا ہے ۔ سبھی عازمین اس کے لئے کوشاں ہیں کہ وہ حج بیت اللہ کے تمام ارکان کی بہتر طریقے سے ادائیگی کرنے کےساتھ اپنے اُن ساتھیو ں کی معاونت بھی کرسکیں جوصحت کے اعتبار سے کمزور ہیں۔ عازمین کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ چونکہ اس وقت شدیدگرمی پڑرہی ہے، اس وجہ سے سعودی حکومت کی جانب سے اور جو انچارج بنائے گئے ہیں ان کی طرف سے بھی بار بار متوجہ کیا جارہا ہے کہ حج کے دوران گرمی کے بچنے کی جو ترکیب بتائی گئی ہےاورجن چیزوں سے احتیاط کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے،عازمین اس پرعمل کریں۔ اس کے علاوہ گرمی سے راحت کے لئے جگہ جگہ پانی کی فراہمی، بوتل بند پانی کی تقسیم اور پانی کاچھڑکاؤ کیا جارہا ہے تاکہ عازمین کو شدید گرمی میںراحت مل سکے ۔