اعظم خان کیخلاف کارروائیوں پر اسمبلی میں سماجوادی کا پُر زور احتجاج

Updated: September 22, 2022, 9:47 AM IST | abdullan rashid | Lucknow

اکھلیش یادو نے یوگی سرکار پرسیاسی رنجش کے تحت فرضی مقدمےدرج کرانے کاالزام لگایا،طنز کیا کہ ’’ڈر ہے کہ کہیں جوہر یونیورسٹی سے بم یا اے کے ۴۷؍ نہ برآمد کرلیا جائے‘‘

Samajwadi leader Akhilesh Yadav with his party workers coming out of the assembly session. (PTI)
سماجوادی سربراہ اکھلیش یادو اپنے پارٹی کارکنان کے ساتھ اسمبلی اجلاس سے باہرآتے ہوئے۔ (پی ٹی آئی)

:اتر پردیش اسمبلی کےمانسون سیشن کے تیسرےروز بھی سماجوادی پارٹی کے ممبران نے جم کر احتجاج کیا۔سماجوادی پارٹی  کے لیڈر اور سابق اسپیکر ماتا پرساد پانڈے نے وقفہ سوالات کے دوران سابق ریاستی وزیر محمد اعظم خان کے خلاف فرضی مقدمات اوران کے ساتھ ظالمانہ طرز عمل کا معاملہ اٹھایا اور اس پراسمبلی میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔حزب اختلاف کے لیڈر اکھلیش یادو نے کہا کہ یوگی حکومت میں محمد اعظم خان او ر ان کے کنبہ کو بہت زیادہ نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں  نے کہ اکہ ان کوکافی سزا مل چکی ہے اب یہ سلسلہ  بند ہونا چاہئے۔ انھوںنے یوگی حکومت پر سیاسی رنجش کی بنیاد پرفرضی مقدمے درج کرنے کا بھی الزام عائد کیا ا ور طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں پولیس جوہر یونیورسٹی سے  بم یا اے  کے  ۴۷؍ نہ  برآمد کرلے۔ 
 اس کے جواب میں ریاستی وزیر پارلیمانی امور سریش کھنہ نے ایوان  میں دعویٰ کیا کہ اعظم  خان   کے خلاف رنجش کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ، قانون سے بڑا کوئی نہیں ہے۔ ان کے خلاف قانون کے تحت ہی کارروائی کی جارہی ہے اورشواہد کی بنیاد پر قانون  اپنا کام کررہا ہے۔ اس دوران سماجوادی پارٹی کے کارکنان نعرہ لگاتے ہوئے ویل میں جمع ہو گئے اور احتجاج کرنے  لگے۔ دوپہر بارہ بجے کے آس پاس اسمبلی کی کارروائی کوجمعرات ۱۱؍ بجے تک ملتوری کردیا گیا۔
سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے محمد اعظم خان کے خلاف درج ہونے والے معاملات پر اسمبلی میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ انھوںنے کہاکہ ان کے خلاف روزانہ نئے نئے فرضی معاملات درج کئے جارہے ہیں۔کوئی ایمرجنسی کے دوران بھی دو سال تک جیل میں نہیں رہا۔ انہوں نے حیرت کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتاب اور اینٹ چوری کے معاملات بھی درج کئے گئےہیں اور اب مشین کی تلاشی کے نام پر یونیورسٹی کی کھدائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی احاطہ میں پولیس فورس تعینات ہے  جبکہ اعظم خان لوک سبھااور راجیہ سبھا کے ممبر کے علاوہ ۹؍ بار اسمبلی کے ممبر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی ایک درسگاہ ہے، جس کے قیام کا مقصد نیک ہے، اس کا افتتاح کرنے ہم خود بھی گئے تھے۔ ماتا پرساد پانڈے نے کہا کہ اعظم خان کو انگریزوں کی طرح جیل کی کال کوٹھری میں رکھا گیا تھا۔  انھوںنے اس معاملے میں ریاستی وزیر پارلیمانی امور سے مداخلت کرنے کی بات بھی کی ۔ 
 سابق وزیراعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی اعظم خان کی حمایت میں آواز بلند کی۔ اسپیکر ستیش مہانا نے کافی دیر تک جاری ہنگامہ آرائی کے بعد اسمبلی کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی ۔ 
 ایک دن قبل ریاست میں مہنگائی، بے روزگاری ،غریبی اور لاقانونیت کے خلاف پیدل مارچ نکالنے والی سماجواد ی پارٹی کی جہاں بی ایس پی نے بغیر نام لئے حمایت کی تھی اوریوگی حکومت کو  آمر قرار دیا تھا وہیں آج سماجوادی پارٹی کا نام لے کراس کو کمزور اپوزیشن ٹھہرانے کی کوشش کی۔
 اس حوالے سےبی ایس پی سپریمو مایاوتی نے ٹویٹ کیا کہ ’’ اتر پردیش کی سیکولر طاقتوں نے سماجوادی پارٹی کو اپنا ووٹ دے کر اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی تو بنا دیا لیکن وہ بی جے پی کو ٹکر دینے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے ۔‘‘ 
 انھوںنے اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہا کہ ’’یہی وجہ ہے کہ بی جے پی حکومت کو اتر پردیش کے عوام کے فلاح و بہبود کے خلاف پوری طرح سے بغیر رکاوٹ اور عوام مخالف سوچ اور طریقہ کار کے ساتھ کام کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اسمبلی میں بڑی تعداد میں ممبران ہونے کے باوجود سماجوادی پارٹی حکومت کے سامنےکافی کمزور دکھائی دیتی ہے ، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ ‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK