Inquilab Logo Happiest Places to Work

ابھیشیک بنرجی پر حملے کی سخت مذمت

Updated: June 01, 2026, 10:27 AM IST | Kolkata

حکمراں قاتل بن چکے ہیں : ممتا بنرجی، یہ انتقام اور ظلم وستم کی سیاست کی مثال ہے: کھرگے، بی جے پی نفرت سے بھری ہے: اکھلیش

Abhishek Banerjee was attacked in Sonarpur, South 24 Parganas, yesterday. Photo: PTI
ابھیشیک بنرجی پرگزشتہ روز جنوبی ۲۴؍ پرگنہ کے سونارپور میں حملہ کیاگیا تھا۔ تصویر:پی ٹی آئی

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قومی جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر سنیچر کو جنوبی۲۴؍پرگنہ کے سونارپور علاقہ میں اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ انتخابی تشدد میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔ واقعے کے بعد مغربی بنگال کی سیاست میں زبر دست ہنگامہ بپا ہے۔ عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق بنرجی کے قافلے پر نامعلوم افراد نے پتھر، انڈے اور جوتے پھینکے۔ ہنگامہ آرائی کے دوران ان کی قمیص بھی پھٹ گئی جبکہ انہیں ہیلمٹ پہنا کر وہاں سے نکالا گیا۔ احتجاج کرنے والوں نے ’’چور، چور‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔ ابھیشیک بنرجی نے الزام لگایا کہ ان پر منصوبہ بند حملہ کیا گیا اور موقع پر مناسب پولیس نفری موجود نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور انہیں جان سے مارنے کی کوشش کر رہے تھے اور وہ متاثرہ خاندانوں کو تحفظ ملنے تک علاقہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ 
 بعد ازاں ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب عوامی نمائندے پر دن دہاڑے حملہ ریاست میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کا ثبوت ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’حکمران قاتل بن چکے ہیں اور سیاسی تشدد جمہوریت کیلئے خطرناک ہے۔ 
سابق وزیر اعلیٰ نے سنیچر کی رات نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک منتخب عوامی نمائندے پر حملہ کیا گیا اور بعد میں انہیں طبی نگرانی میں بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’آج ہمارے قومی جنرل سیکریٹری پر حملہ ظاہر کرتا ہے کہ اس بے شرم حکومت میں امن و امان کتنی تیزی سے بگڑ رہا ہے۔ اگر ایک رکن پارلیمنٹ کو دن دہاڑے نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو عام شہریوں کے لیے کیا امید کی جاسکتی ہے؟ کیا یہ بی جے پی کا جمہوریت کا نظریہ ہے؟‘‘
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس سربراہ کھرگے نے کہا کہ بنرجی پر حملہ بی جے پی کی انتقام اور ظلم و ستم کی سیاست کی ایک مثال ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، کھرگے نے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: آج تک کے تاج محل کو ہندومندر قرار دینے کے شو میں ترمیم کا ریگولیٹرکا حکم

وہیں اکھلیش یادو نے مغربی بنگال حکومت پر شدید حملہ کیا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، اکھلیش نے کہاکہ ’’بنگال میں ترنمول کانگریس کے ایک سرکردہ لیڈرپرقاتلانہ حملے کا منصوبہ بنا کر ریاست کی حکومت نے یہ ثابت کر دیا کہ بی جے پی نفرت سے بھری، منفی اور پُرتشدد سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے سازش کو قابل مذمت قرار دیا۔ واقعہ کے بعد ابھیشیک بنرجی کو علاج کیلئے کولکاتا کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔ 
ممتا بنرجی نے اسپتال انتظامیہ پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا رہا تھا جس کے بعد انہیں دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد مغربی بنگال میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ریاست میں انتخابی تشدد اور سیاسی محاذ آرائی پہلے ہی ایک بڑا موضوع بن چکی ہے۔ واضح رہےکہ اس معاملے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے۵؍ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں تپت میتی اور آکاش نامی۲؍ نوجوان بھی شامل ہیں جو مبینہ طور پر حملے کے دوران ویڈیو میں دیکھے گئے تھے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس کے کارکنان اس واقعے کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ ہگلی ضلع کے چنچڑا میں پارٹی کارکنوں نے مظاہرہ کیا۔ سابق ترنمول رکن اسمبلی است مجمدار نے پپل پاتی موڑ پر سڑک جام کر کے مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ کے باعث کچھ دیر کیلئے ٹریفک مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا۔ انہوں نےکہا کہ ابھیشیک بنرجی پر انڈے اور جوتے پھینکے گئے جس کےخلاف ترنمول کانگریس سڑکوں پر اتری ہے۔ 
اس دوران بی جے پی کے ریاستی صدر سامک بھٹاچاریہ نے کہا کہ پارٹی کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ مقامی عوام کے غصہ کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے بھی اس واقعہ کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK