دیوالی کی چھٹیوں میں تبدیلی سے طلبہ اور اساتذہ ناخوش

Updated: October 30, 2021, 9:57 AM IST | saadat khan | Mumbai

پہلے یکم نومبر سے ۱۴؍ نومبر تک چھٹیوںکا اعلان کیا گیا ، پھر اچانک اسے ۲۹؍ اکتوبر تا ۱۰؍ نومبر کر دیا گیا

Students are shocked by the sudden decisions of the authorities (file photo)
طلبہ حکام کے اچانک فیصلوں پر حیران ہیں ( فائل فوٹو)

دیوالی کی چھٹی سےمتعلق ریاستی محکمہ ٔ تعلیم، ڈیویژنل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اور بی ایم سی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ مختلف سرکیولر سے جہاں طلبہ ، اساتذہ اور والدین  تذبذب کا شکار ہیں وہیں اچانک دیوالی کی چھٹی میں تبدیلی کئے جانے سے حیران بھی ہیں۔ ۲۷؍ نومبرکو ریاستی محکمہ ٔ  تعلیم نے اچانک سرکیولر جاری کرکے ۲۸؍اکتوبرتا ۱۰؍نومبر تک دیوالی کی چھٹیوں کا اعلان کیا۔اسی طرح  ۲۸؍اکتوبرکی شام ساڑھے ۷؍بجے بی ایم سی نے اچانک سرکیولر جاری کرکے ۲۹؍ اکتوبر تا۱۰؍نومبر تک دیوالی کی چھٹی کا اعلان کیا جس سےطلبہ کے جاری ٹیسٹ کو ملتوی کرنا پڑا ۔ جن اساتذہ اور طلبہ نے ۲؍ تا۳؍مہینے قبل ریلوے کاریزرویشن کروایا تھا ،انہیں بھی پریشانی ہورہی ہے ۔
 مہانگرپالیکا شکشک سینااُردو شعبہ کے عبدحلیم نےبتایاکہ ’’ بی ایم سی اسکولوںکو یکم نومبر تا۱۴؍نومبر تک دیوالی کی چھٹی دی گئی تھی مگر ۲۸؍ اکتوبر کو اچانک دیوالی کی چھٹی تبدیل کرکے ۲۹؍ اکتوبر تا ۱۰؍نومبر کرنےکا اعلان کئے جانے سے طلبہ اور اساتذہ کو کچھ پریشانی ضرور ہوئی ہے ۔ ۲۹؍اکتوبر کو طلبہ کاآخری ٹیسٹ پیپر تھا۔ اب یہ ٹیسٹ دیوالی کی چھٹی کےبعد منعقدکیاجائے گا۔ سب سے بڑی پریشانی ان طلبہ اور اساتذہ کو ہورہی ہے جنہوںنے یکم نومبر تا ۱۴؍نومبر کی چھٹی کےمطابق بیرون ِ ممبئی جانے کی ریلوے ٹکٹ بُک کروائی تھی۔‘‘
  مہانگر پالیکا شکشک سبھا کے جوائنٹ سیکریٹری عابد شیخ نےکہاکہ ’’ محکمہ ٔ  تعلیم  نے نیشنل اچیومنٹ سروے امتحان جو ۱۲؍نومبر کوقومی سطح پر منعقدہوناہے ، کی وجہ سے دیوالی کی چھٹی میں تبدیلی کی ہے مگر جوطلبہ اس دوران بیرون ِ ممبئی چلئے گئے ہیںیا جانےوالے ہیں، انہیں کیسے بلایا جائے گا۔ اساتذہ تو  پھر بھی کسی نہ کسی طرح آ جائیں  گے ۔ ‘‘ انہوںنےیہ بھی کہاکہ ’’ ۲۸؍اکتوبر کی شام ساڑھے ۷؍بجے اچانک ۲۹؍اکتوبر سے دیوالی کی چھٹی کا اعلان کئے جانے سے طلبہ اور اساتذہ میں تذبذب تھا کیوں کہ طلبہ کا ٹیسٹ جاری تھا جبکہ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے ۲۹؍اکتوبر تا ۱۰؍نومبر کےدرمیان آن اورآف لائن پڑھائی بندکرنےکی ہدایت دی ہے ۔‘‘  ایک اسکول کے معلم نے کہاکہ ’’ دیوالی کی چھٹی سے متعلق گزشتہ ۲؍دنو ں میں جس طرح کے احکامات جاری کئے گئے ہیںانہیں دیکھ کر تو ایسا محسوس ہورہاتھاکہ جس طرح۸؍نومبر ۲۰۱۶ء کورات ۸؍بجے اچانک ۵۰۰؍اور ایک ہزار روپے کی نوٹ ۹؍نومبر ۲۰۱۶ء سے بندکئے جانےکا اعلان کیا گیا تھا اسی طرح دیوالی کی چھٹی کااعلان کیاگیاہے ۔ سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو کیا ہو گیا ہے ۔‘‘ فی الحال اس فیصلے کی وجہ سےاکثر طلبہ اور اساتذہ ناخوش نظر آ رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK