نلسار یونیورسٹی نے جلسہ تقسیم اسناد میں مہمان خصوصی بنایا ہے، طلبہ نے ان کے تبصروں کا حوالہ دیا، نظر ثانی کی اپیل کی۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 9:58 AM IST | Hyderabad
نلسار یونیورسٹی نے جلسہ تقسیم اسناد میں مہمان خصوصی بنایا ہے، طلبہ نے ان کے تبصروں کا حوالہ دیا، نظر ثانی کی اپیل کی۔
نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (این اے ایل ایس اے آر، نلسار) یونیورسٹی آف لاء، حیدرآباد کے تقریباً۴۵۰؍ طلبہ نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کو یونیورسٹی کی آئندہ کانووکیشن تقریب (جلسہ تقسیم اسناد) میں بطور مہمان خصوصی مدعو کرنے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ طلبہ نے وائس چانسلر، رجسٹرار اور اساتذہ کو خط لکھ کر چیف جسٹس کو مدعو کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جین زی کے احتجاج کے بعد پارٹیاں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کیلئے مجبور
طلبہ کی مخالفت کی بنیادی وجہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس زیادتیوں سے متعلق پٹیشن پر سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت کے ریمارکس اور طرزِ عمل ہے۔ یونیورسٹی نے ابھی کانووکیشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے اور نہ ہی باضابطہ طور پر یہ تصدیق کی ہے کہ جسٹس سوریہ کانت کو مہمان خصوصی بنایا گیا ہے، تاہم نلسار میں کئی برسوں سے روایت ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا ہی کانووکیشن میں مہمان خصوصی ہوتے ہیں۔ طلبہ کی جانب سے پہلا خط۲۳؍ جولائی کو ایل ایل بی مکمل کرچکے ۷۰؍طلبہ نے بھیجا ۔ اس کے بعد تقریباً۳۸۰؍موجودہ طلبہ نے بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے الگ الگ خطوط یونیورسٹی انتظامیہ کو بھیجے۔ اس طرح مختلف بیچ کے تقریباً۴۵۰؍ طلبہ نے چیف جسٹس کو مہمان خصوصی بنانے کے فیصلے پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔طلبہ نے نشاندہی کی ہے کہ سپریم کورٹ نے پولیس زیادتیوں کا ازخود نوٹس لینے سے انکار کر دیا تھا اور جب ایک وکیل نے ویڈیو دکھانے کی کوشش کی تو اسے عدالت کے وقت کی بربادی قراردیا۔