آئندہ سال ۷؍ ریاستوں میں الیکشن ہیں،جین زی ووٹر ۲۲؍ فیصد ہیں، ۵؍ فیصد ادھر اُدھر ہوئے تو نتائج بدل سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 9:52 AM IST | New Delhi
آئندہ سال ۷؍ ریاستوں میں الیکشن ہیں،جین زی ووٹر ۲۲؍ فیصد ہیں، ۵؍ فیصد ادھر اُدھر ہوئے تو نتائج بدل سکتے ہیں۔
اگلے سال۷؍ ریاستوں یوپی ، گجرات، پنجاب، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، منی پور اور گوا میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ان انتخابات میں جین زی یعنی۱۸؍ سے۲۹؍ سال کی عمر کے ووٹر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس کے پیچھے دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی، جولائی میں دہلی میں ہونے والی جین زی تحریک، جس نے نوجوانوں کے سیاسی رجحانات کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ دوسری، بہار کے بانکی پور اور مدھیہ پردیش کے دتیا ضمنی انتخابات کے چونکا دینے والے نتائج، جن کے بعد نوجوانوں کے انتخابی کردار پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممتا بنرجی کی کار پر حملہ، پتھر، کیچڑ اور چپل پھینکی گئی
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابی مساوات میں خواتین، پسماندہ طبقات، کسانوں اور دلتوں جیسے گروہوں کے ساتھ اب جین زی بھی ایک اہم ووٹر گروپ بنتا جا رہا ہے۔ ان۷؍ انتخابی ریاستوں میں تقریباً ۲۲؍فیصد ووٹرز کی عمر۱۸؍ سے۲۹؍سال ہے۔ان کے ووٹ کسی بھی سیاسی جماعت کے انتخابی حساب کتاب کو تبدیل کر سکتا ہے۔گزشتہ انتخابات میں مذکورہ ۷؍ ریاستوں کے اعداد و شمار دیکھیں تو مجموعی طور پر ۹۴۰؍ نشستوں میں سے۲۵۷؍نشستیں یعنی۲۷؍ فیصد ایسی تھیں، جہاں جیت کا فرق۵؍ فیصد یا اس سے کم تھا۔ یعنی ۵؍ فیصد ادھر اُدھر ہوئے تو نتائج بدل سکتے ہیں۔ یوپی کی ۴۰۳؍میں سے۱۳۱؍ نشستیں ایسی تھیں جہاں جیت کا فرق۵؍فیصد سے کم تھا۔ گجرات کی۱۸۲؍ میں سے۲۷، پنجاب کی۱۱۷؍ میں سے۲۴، ، اتراکھنڈ کی۷۰؍ میں سے۱۵؍ اور اور ہماچل پردیش کی۶۸؍ میں سے۱۴؍ نشستوں پر ووٹوں کا فرق۵؍فیصد سے کم تھا۔
یہ بھی پڑھئے: جھارکھنڈ میں اداکار پیوش مشرا کی طلبہ کے احتجاج میں شرکت، مظاہرین کی حمایت کی
اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اگر۲۲؍ فیصد جین زی ووٹرس میں سے صرف۵؍ فیصد بھی متحد ہو کر کسی ایک سیاسی جماعت کے حق میں چلے گئے تو ان ریاستوں میں سیاسی مساوات تبدیل ہو سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اب اپنی پوری حکمت عملی جین زی ووٹرس کو ذہن میں رکھ کر بنانے میں مصروف ہو گئی ہیں۔ بی جے پی، کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے اس سلسلے میں مہم شروع کر دی ہے۔ اس طرح ملک کی سیاست میں طویل عرصے سے چلی آرہی ذات اور مذہب پر مبنی انتخابی مساوات کو نوجوان ووٹرس نے چیلنج کردیا ہے۔ اگلے انتخابات میں ۶؍ سے ۷؍ ماہ کا وقت ہے اور اہم سوال یہی ہے کہ اس وقت تک نوجوانوں کا یہ رجحان کتنا مضبوط رہتا ہے۔ چونکہ اس سے سب زیادہ نقصان بی جے پی کو ہونے کا اندیشہ ہے اس لئے زعفرانی پارٹی ابھی سے سرگرم ہوگئی ہے اورا س کی حکومتوں نے نوجوانوں سے رابطہ بڑھانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔