ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز( ٹِس) کے طالب علم کی موت پر طلبہ نے پریل کے کِرتی محل کارنر پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کے مطابق ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز ممبئیمیں گزشتہ دنوں طالب علم کی موت کا ذمہ دار مکمل طور پر ٹِس انتظامیہ ہے۔
EPAPER
Updated: September 12, 2026, 12:11 PM IST | Owais Siddiqui | Parel
ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز( ٹِس) کے طالب علم کی موت پر طلبہ نے پریل کے کِرتی محل کارنر پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کے مطابق ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز ممبئیمیں گزشتہ دنوں طالب علم کی موت کا ذمہ دار مکمل طور پر ٹِس انتظامیہ ہے۔
ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز( ٹِس) کے طالب علم کی موت پر طلبہ نے پریل کے کِرتی محل کارنر پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کے مطابق ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز ممبئیمیں گزشتہ دنوں طالب علم کی موت کا ذمہ دار مکمل طور پر ٹِس انتظامیہ ہے۔ واضح رہے کہ پیر کو’ ٹِس‘ میں ماسٹرس آف پبلک ہیلتھ اِن ہیلتھ ایڈمنسٹریشن کے پہلے سال کے طالب علم پی جنارتھانن (۲۶ ) کی سانس لینے میں دقت کے سبب موت ہوگئی۔ اسدوران ٹِس کیمپس میں نہ کوئی ایمبولنس موجود تھی اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر یا ہنگامی طبی سہولت جس کی وجہ سے طالب علم کو اسپتال لے جانے میں مزید تاخیر ہوئی اور راستے میں ہی اس کی موت ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: لداخ کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا، بلکہ ایک منفرد منتخب باڈی دی جائے گی: حکومت
طالب علم کی موت کے بعد طلبہ میں بے چینی پھیل گئی۔ اس ضمن میں طلبہ نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا جس میں’آمچی پڑھائی آمچی لڑائی، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور ممبئی اگینسٹ سپریشن آف اسٹوڈنٹس‘ جیسی کئی طلبہ تنظیمیں شامل رہیں ، طلبہ نے ٹِس انتظامیہ کی جوابدہی طے کرنے کی بات کی اور طالب علم کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا ۔احتجاج کےپیش نظر کئی طلبہ کو پولیس کے ذریعے مبینہ طورپرہراساں کیا گیا ۔ ان میں سے ایک عامر قاضی جو اے آئی ایس ایف ممبئی کے صدربھی ہیں، نے دعویٰ کرتے ہوئے انقلاب کو بتایا کہ انہیں صبح سے ہی پولیس نے حراست میں لے لیا تھا ۔ پولیس پہلے صبح ان کے گھرپہنچی جہاں وہ موجود نہیں تھے۔ بعد ازیں وہ اے آئی ایس ایف کے دفتر پہنچی اور وہاں سے انہیں حراست میں لیا گیا۔ اس دوران پولیس نے طلبہ تنظیم کے دفتر کی تلاشی بھی لی اور انہیں دن بھر حراست میں رکھا گیا۔ حتیٰ کہ وکیل سے بھی ملنے نہیں دیا گیا ۔ پہلے بھوئیواڑہ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا پھر بعد میں انہیں کالاچوکی پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا جہاں سے انہیں شام میں رہا کیا گیا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے پولیس کے اس رویے کی شدید مذمت کی اور اسے طلبہ مخالف بتایا۔