ڈومبیولی میں ڈاکٹر کے ساتھ مار پیٹ کے کلیدی ملزم نے اپنے اوپر عائد الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
EPAPER
Updated: September 12, 2026, 12:58 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan
ڈومبیولی میں ڈاکٹر کے ساتھ مار پیٹ کے کلیدی ملزم نے اپنے اوپر عائد الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
ڈومبیولی کے شاستری نگر اسپتال میں ڈاکٹر کے ساتھ مارپیٹ کے معاملے میں کلیدی ملزم رمیش مہاترے سمیت دیگر ملزمین کلیان کورٹ میں حاضر ہوئے۔ اس دوران ملزمین کے خلاف الزامات عائد کئے جانے کے معاملے پر عدالت میں فریقین کی جانب سے دلائل پیش کئے گئے۔ دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزمین کے خلاف الزامات طے کر دئیے، تاہم ملزمین نے عدالت کے روبرو ان الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اب مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا راستہ صاف ہوگیا ہے اور ۱۵؍ ستمبر سے کیس کی سماعت شروع ہوگی۔
واضح رہے کہ شاستری نگر اسپتال میں ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے اس معاملے نے خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ کلیان سیشن کورٹ کی جانب سے الزامات طے کئے جانے کے بعد اب مقدمہ کی آئندہ کارروائی اہمیت اختیار کرگئی ہے جس کے دوران معاملے سے متعلق گواہوں کے بیانات اور پیش کئے جانے والے شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ڈومبیولی: ۱۶ ؍ٹن مشتبہ گوشت سے بھرا کنٹینر ضبط
دریں اثنا، ملزم رمیش مہاترے کے وکیل عمر قاضی نے عدالت سے چارج شیٹ کا مطالعہ کرنے اور اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے مزید وقت طلب کیا۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چارج شیٹ کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے اور آئندہ کی قانونی کارروائی کی تیاری کے لئے وقت درکار ہے۔عدالت کی جانب سے ملزمین کے خلاف الزامات طے کئے جانے کے بعد اب ۱۵؍ ستمبر سے شروع ہونے والی مقدمے کی سماعت پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔اس دوران معاملے سے متعلق گواہوں اور شواہد کی بنیاد پر عدالتی کارروائی آگے بڑھے گی۔
یہ بھی پڑھئے: آدتیہ پنچولی ہیرو کے بجائےمنفی اور معاون کرداروں میں مشہور ہوئے
جنرل باڈی میٹنگ میں رمیش مہاترے کا پرتپاک استقبال
کلیان کورٹ میں پیشی کے بعد رمیش مہاترے کے ڈی ایم سی کی جنرل باڈی میٹنگ میں شرکت کرنے کا واقعہ بھی خاصا توجہ کا مرکز رہا۔ میونسپل سیکریٹری کشور شیلکے نے ایوان کو رمیش مہاترے کی موجودگی سے آگاہ کرتے ہوئے اجلاس میں ان کی آمد کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر شندے سینا کے کارپوریٹروں نے بھی رمیش مہاترے کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور انہیں گلے لگا کر اپنی حمایت کا اظہار کیا۔اس پورے منظر نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ حالات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے رمیش مہاترے کسی جرم کے الزام میں عدالت میں پیش ہونے کے بجائے کوئی بڑا کارنامہ انجام دے کر ایوان میں لوٹے ہوں۔