تلوجہ کے لوڈھا لاجسٹک پارک میں واقع کولڈ اسٹوریج میں رکھنے کیلئے بھیجاجا رہا تھا۔
EPAPER
Updated: September 12, 2026, 12:55 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Dombivli
تلوجہ کے لوڈھا لاجسٹک پارک میں واقع کولڈ اسٹوریج میں رکھنے کیلئے بھیجاجا رہا تھا۔
اترپردیش سے نوی ممبئی کی جانب آنے والے تقریباً ۱۶؍ ٹن مشتبہ گوشت سے بھرے ایک کنٹینر کو ہندوتوا تنظیم کے کارکنوں نے روک کر پولیس کے حوالے کردیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ گوشت تلوجہ کے لوڈھا لاجسٹک پارک میں واقع ایک گودام کے کولڈ اسٹوریج میں رکھنے کیلئے لایا جا رہا تھا۔ پرویوشن کے مقدس ایام کے دوران اتنی بڑی مقدار میں گوشت پکڑے جانے کی خبر سے علاقے میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہندوتوا تنظیم کے کارکنوں کو خبر ملی تھی کہ اترپردیش سے ایک کنٹینر میں بڑی مقدار میں مشتبہ گوشت نوی ممبئی کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ اطلاع ملتے ہی کارکنوں نے کنٹینر کا تعاقب کیا اور اسے روک لیا۔ کنٹینر کی تلاشی لینے پر اس میں تقریباً ۱۶؍ ٹن گوشت موجود ہونے کا انکشاف ہوا کارکنوں نے فوری طور پر اس واقعے کی اطلاع مقامی ہِل لائن پولیس کو دی۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: معاون موت کو قانونی حیثیت دینے والا تاریخی بل ہاؤس آف کامن سے مسترد
اطلاع ملتے ہی ہِل لائن پولیس اسٹیشن کی ٹیم اور فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے) کے افسران موقع پر پہنچے۔پولیس نے کنٹینر کو اپنی تحویل میں لے کر کارروائی شروع کردی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ کنٹینر تلوجہ کے لوڈھا لاجسٹک پارک میں واقع ایک گودام کے کولڈ اسٹوریج میں گوشت ذخیرہ کرنے کے لئے لایا جا رہا تھا۔پولیس اب اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس معاملے کے پیچھے کوئی بڑا نیٹ ورک یا ریکٹ سرگرم ہے۔ یہ گوشت کہاں سے لایا گیا تھا اور اسے کہاں سپلائی کیا جانا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’ٹِس‘ کے طالب علم کی موت پرطلبہ کا احتجاج
گوشت کی فورینسک جانچ ہوگی
کنٹینر میں موجود گوشت گائے کا گوشت (بیف) ہے یا کسی دوسرے جانور کا اس بارے میں فی الحال کوئی حتمی وضاحت نہیں ہوئی ہے۔ گوشت کی سائنسی جانچ کے لئے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو موقع پر طلب کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کی موجودگی میں گوشت کے مختلف نمونے حاصل کئے گئے جنہیں تجزیے کے لئے فورنسک لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔