• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس، ہندوستان سے اِمپورٹ بڑھائے گا

Updated: September 12, 2026, 12:30 PM IST | Agency | Moscow / New Delhi

باہمی تجارت میں عدم توازن کو کم کرنا مقصود، ماسکو نئی دہلی سے خدمات، ادویات، الیکٹرانکس اور پھلوں کی درآمد بڑھانے کی تیاری کررہا ہے۔

Vladimir Padalko, Vice President of the Russian Chamber of Commerce. Photo: INN
روسی چیمبر آف کامرس کے نائب صدر ولادیمیر پڈالکو۔ تصویر: آئی این این

روسی چیمبر آف کامرس کے نائب صدر ولادیمیر پڈالکو نے کہا ہے کہ روس، ہندوستان کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو کم کرنے اور۲۰۳۰ء تک باہمی تجارت کا حجم ۱۰۰؍ ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے ہندوستان سے خدمات، غیر ملکی پھلوں، ادویات اور الیکٹرانکس کی درآمد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔پڈالکو نے جمعہ کو برکس بزنس فورم کے موقع پر خبر رساں ایجنسی ’ ٹی این آئی ای ‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اپنی درآمدات کو متنوع بنانے کا خواہاں ہے اور ہندوستان اس کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے کیونکہ ہندوستانی کمپنیوں میں برآمدات کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’الیکٹرانکس اور ادویات کے شعبے اہم ہیں۔ ہم زرعی مصنوعات کی درآمد بڑھانے میں بھی بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ روس کا جغرافیائی محل وقوع اور موسمی حالات ہندوستان  سے غیر ملکی پھلوں کی زیادہ درآمد کیلئے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ پڈالکو نے بتایا کہ روسی کمپنیوں نے ہندوستان  کے کاروباری اداروں کے ساتھ انگور کی درآمد میں نمایاں اضافے کیلئےبات چیت شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آج ہم نے اپنی ایک بڑی کمپنی کے ساتھ  ہندوستان سے روس کو برآمد کیے جانے والے انگور کی مقدار بڑھانے پر بات کی۔ ہمیں توقع ہے کہ اس تجارت کی مالیت کروڑوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان برکس کے ذریعے اپنی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر لے جا سکتا ہے: صنعتی ماہرین

 لاجسٹکس کو بہتر بنانے پر زور

پڈالکو نے کہا کہ ہندوستان  سے زرعی مصنوعات اور دیگر شعبوں کی تجارت میں اضافے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان لاجسٹکس کو بہتر بنانا انتہائی اہم ہوگا کیوں کہ زرعی اشیاء  کےجلد خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ نہوں نے ڈیجیٹل اور آئی ٹی شعبوں میں بھی زیادہ تعاون کے امکانات کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھاکہ ’’ہمیں آئی ٹی کے شعبے کو فروغ دینے کیلئے  ڈیجیٹل میدان میں بھی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘‘ ۱۰۰؍ ارب ڈالر تک ۲۰۳۰ء تک  ہند-روس تجارت کو لے جانے کا  ہدف مقرر کیا  گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK