• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

شولاپور بازار سمیتی میں اچانک پیاز کے داموں میں گراوٹ

Updated: November 26, 2023, 11:49 AM IST | Agency | Sholapur

بارش کے امکان کے پیش نظر کسان بڑے پیمانے پر اپنی پیاز کی فصل فروخت کرنے کیلئے بازار میں لا رہے ہیں۔

Onion prices are likely to fall in other regions. Photo: INN
دیگر علاقوں میں پیاز کے دام گرنے کے امکانات ہیں۔ تصویر : آئی این این

مراٹھا ریزرویشن کے تعلق سے بیشتر موقعوں پر خاموش رہنے والے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے سنیچر کو اس معاملے میں بیان دیا۔  انہوں نے کہا ’’حکومت مراٹھا سماج کو ریزرویشن دینے کیلئے بہار کی طرز پر کوئی راستہ تلاش کرے گی۔ ‘‘ این سی پی لیڈر ستارا ضلع کے کراڈ علاقے میں یشونت رائو چوان  کی برسی کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔  
  یاد رہے کہ اجیت پوار مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر زیادہ تر خاموش رہے ہیں۔  انہوں نے دیوالی کے موقع پر دہلی جا کر امیت شاہ سے ملاقات کی تھی اس وقت بھی یہ شکایت کی تھی کہ ریزرویشن کے معاملے کو حکومت ٹھیک سے حل نہیں کر سکی۔ لیکن سنیچر کو انہوں نے اس معاملے میں  یقین دلانے کی کوشش کی کہ مراٹھا سماج کو ضرور ریزرویشن دیاجائے گا۔  انہوں نے کہا ’’ حکومت کے سامنے ریزرویشن سمیت کئی مسائل ہیں۔ ہر سماج کو اپنے حق کیلئے ریزرویشن کا مطالبہ کرنے کا اختیار ہے۔ حکومت مراٹھا سماج کو ریزرویشن  دینے کی پوری کوشش کر رہی ہے لیکن ریزرویشن دینے کے بعد وہ آئین کے دائرے میں ہونا ضروری ہے۔ ‘‘ نائب وزیر اعلیٰ نے مثال دی کہ ’’ پرتھوی راج چوہان ( کانگریس) کی حکومت میں ہم نے مراٹھا سماج کو ریزرویشن دیا تھا لیکن ہائی کورٹ نے اسےمسترد کر دیا۔ اس کے بعد دیویندر فرنویس ( بی جے پی) کی حکومت نے مراٹھا سماج کو ریزرویشن دیا لیکن وہ ( ہائی کورٹ میں منظور ہونے کے بعد) سپریم کورٹ میں مسترد ہو گیا۔ ‘‘اجیت پوار کا کہنا تھا ’’ اس کی وجہ سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ سیاستداں ان کے ساتھ کھیل کر رہے ہیں۔ لیڈران کے تعلق سے غلط فہمیاں پیدا ہونے لگیں۔‘‘ 
 اجیت پوار نے کہا ’’  دیویندر فرنویس نے  دسہرہ کے موقع پر چھترپتی شیواجی کے مجسمے کی قسم کھا کر کہا کہ ہم مراٹھا سماج کو ریزرویشن دے کر رہیں گے۔   وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت میں اس تعلق سے ہماری کوششیں جاری ہیں۔‘‘  انہوں نے مزید کہا ’’ ان کے علاوہ  دیگر سماج کے  لیڈران نے بھی  اپنا موقف  بیان کرنا شروع کیا۔ لیکن اپنا موقف پیش کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھنا چاہئے کہ  لوگوں کے درمیان کڑواہٹ نہیں پیدا ہونی چاہئے۔ اس بات کا خیال ہر کسی کو رکھنا چاہئے۔‘‘  ان کا اشارہ چھگن بھجبل کی جانب سے مسلسل سخت الفاظ میں کی  جا رہی تقریروں کی طرف تھا۔
 یاد رہے کہ منوج جرنگے نے ریاستی حکومت کو مراٹھا ریزرویشن کیلئے ۲۴؍ دسمبر تک کی مہلت دی ہے ۔ حالانکہ اتنے کم وقت میں آئینی پیچیدگیوں کو دور کرنا آسان نہیں ہے۔ اس تعلق سے اجیت پوار نے کہا ’’  ریزرویشن کا مسئلہ حل کرنے کیلئے تھوڑا وقت دیا جانا چاہئے۔  بہار حکومت نے اس معاملے میں کچھ منفرد فیصلے کئے ہیں۔ جلد ہی ہمارا( مہاراشٹر اسمبلی کا) بھی اجلاس شروع ہوگا اس میں ہم اس بات پر غور کریں گے کہ کیا بہار کے طرز پر کوئی اقدام کیا جا سکتا ہے ؟ ‘‘  انہوں نے وضاحت کی کہ ’’ مہاراشٹر میں اس وقت  او بی سی، ایس سی؍ ایس ٹی اور این ٹی ان سب کو ملا کر ۵۲؍ فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ۱۰؍ فیصد ریزرویشن معاشی طور پر پسماندہ لوگوں کے لئے ہے۔ ساتھ ہی  اس طرح پہلے ہی یہاں ۶۲؍ فیصد ریزرویشن دیا جا چکا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ وزیر اعلیٰ نے مراٹھا ریزرویشن کیلئے آل پارٹی میٹنگ بلائی تھی۔ اس میٹنگ میں  سب نے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ مراٹھا سماج کو ریزرویشن دیتے وقت او بی سی اور دیگر سماج کے ریزرویشن کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ ‘‘
 یاد رہےکہ یہ وہ موقف ہے جو ہر پارٹی اور ہر لیڈر دہرا چکا ہے لیکن منوج جرنگے کا مطالبہ ہے کہ مراٹھا سماج کو او بی سی زمرے میں شامل کیا جائے اور ریزرویشن دیا جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK