سدھیر چودھری پر کورونا پازیٹیو ملازمین کو دفتر آنے پر مجبور کرنے کا الزام

Updated: May 23, 2020, 4:28 AM IST | New Delhi

زی نیوز کے دفتر میں متاثرین کی تعداد ۶۶؍ تک پہنچنے کا امکان ،سدھیر چودھری کو سوشل میڈیا جم کر نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

Sudhir Chaudhry - Photo: INN
سدھیر چودھری ۔تصویر: آئی این این

 زی نیوز میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ۶۶؍ ہوجانے کی خبروں کے بیچ ادارہ کے ایڈیٹر اِن چیف سدھیر چودھری پر کورونا پازیٹیو ملازمین کو زبردستی دفتر آنے پر مجبور کرنے کا الزام عائد ہو رہاہے۔ اس کی وجہ سے وہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ بہرحال انہوں نے کورونا سے متاثر افراد کو دفتر آنے پر مجبور کرنے کے الزام کی تردید کرتےہوئے کہا ہے کہ ان کے ٹویٹ کے غلط مطلب نکالے جارہے ہیں ۔ واضح رہے کہ سدھیر چودھری خود زی ٹی وی کے ۲۸؍ افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کرچکے ہیں تاہم اب متاثرین کی تعداد بڑھ کر ۶۶؍ ہوجانے کادعویٰ کیا جا رہا ہے۔ یہ دعویٰ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹر ملن شرما نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کیا ہے۔ملن شرما کے اس دعوے کے فوراً بعد ٹویٹر پر ایک بار پھر زی ٹی وی تنقیدوں کی زد پر آگیا اور اسے تبلیغی جماعت کے تعلق سے اس کی زہر افشانیاں  یاد دلائی گئیں ۔ کچھ صارفین نے کورونا سے متاثرہ افراد کو دفتر آنے پر مجبور کرنے کی پاداش میں  سدھیرچودھری کے خلاف کارروائی کی مانگ بھی کی ہے۔
  ششی شنکر سنگھ نامی صارف نے نام لئے بغیر سدھیر چودھری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہےکہ ’’زی ہندوستان میں  کام کرنے والے میرے ایک دوست نے بتایا ہے کہ زی نیوز گروپ میں  کووڈ کے پھیلنے کیلئے صرف ایک شخص ذمہ دار ہے۔‘‘ اس سے قبل وویک سنگھ نامی ایک صحافی نے سدھیر چودھری پر اپنے ماتحت ملازمین پر کوروناسے متاثر ہونےکے باوجود دفتر آنےکیلئے دباؤ ڈالنے کا الزام لگاتےہوئے بتایاہے کہ انہوں  نے ملازمین کو دھمکی دے ڈالی ہے کہ ’’جو لوگ بہانہ بنا کر آفس نہیں  آرہے ہیں  ان کو ہم دیکھ رہے ہیں ...کب تک نہیں   آئیں  گے؟ ۵، ۱۰، ۱۵؍ دن؟‘‘ دوسری طرف چودھری نے اس کی تردید کرتے ہوئےکہا ہے کہ ان کے ساتھیوں  نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کورونا سے متاثر ہونے کےبعد بھی کام کیا جبکہ دوسرے لوگ گھر بیٹھ گئے۔بہر حال انہیں تنقیدوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK