سکھ بیر سنگھ بادل کادرد چھلکا،بی جے پی پر اتحاد کے تقدس کو پامال کرنے کاالزام عائد کیا

Updated: September 29, 2020, 9:41 AM IST | Agency | Chandigarh

این ڈی اے کی سب سے پرانی حلیف اکالی دل کو کافی عرصے سے یہ محسوس ہورہا تھا کہ بی جے پی اسے کمزور کرنے کی سازش کررہی ہے۔کسان بل کو موقع غنیمت سمجھ کر اس سے علاحدگی اختیار کرلی

Modi and Badal - PIC : INN
مودی اور بادل ۔ تصویر : آئی این این

برسوں تک بی جے پی کے ساتھ رہنے اور مل کر اقتدار کی ملائی کھانے کے بعد  اب شرومنی اکالی دل کو بھی اس بات کااحساس ہوگیا کہ جہاں بی جےپی کا اپنا مفاد وابستہ ہو، وہاں وہ اتحادیوں کے جذبات کا خیال نہیں کرتی۔اپنا درد بیان کرتے ہوئے  اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نےالزام عائد کیا کہ بی جے پی نے اتحاد کے تقدس کو پامال کیا ہے۔ 
  زرعی بلوں کے معاملے پر مرکزمیں بی جے پی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) سے علاحدہ  ہونے کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے   بادل نے کہا کہ بی جے پی قیادت نے کسان مخالف بلوں پر ہماری مسلسل اپیلوں کو نظرانداز کیا ۔ جموں کشمیر میں پنجابی کو سرکاری زبان کی فہرست سے باہر رکھنے کے معاملے میں بھی انہوں نے ہمارے اعتراضات کو نظرانداز کیا۔ اس کے بعد ان کے ساتھ رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ  اس لئے پہلے مرکزی کابینہ میں پارٹی کی نمائندہ ہرسمرت کور بادل نے استعفیٰ دے دیا اور پھر عوام ، اپنے کارکنوں اور لیڈروں سے بات چیت کے بعد ہم نے اتحاد سے بھی علاحدگی کا فیصلہ کیا۔
 اس سے قبل روپڑ ، ہوشیار پور اور پھگواڑہ کے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سکھ بیر سنگھ بادل نے کہا کہ کسانوں ، کھیت مزدوروں اور آڑھتیوں کو بچانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو بالخصوص پنجاب میں  مل کر جدوجہد کرنی چاہئے۔  انہوں نے کہا کہ ’’ کسی بھی جدوجہد میں شامل ہونے کیلئے ہم تیار ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ زرعی بل جیسے قدم جو غیر یقینی صورتحال پیدا کرتے ہیں ان کا نہ صرف معیشت پر بلکہ ملک کے معاشرتی استحکام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی معاشی پریشانی پوری معیشت کو متاثر کرسکتی ہے ، وہ ایک طرح سے ملک بھر میں قومی مفاد  کیلئے لڑ رہے  ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ان کی جماعت پنجاب میں امن ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ  کیلئے بھی پرعزم ہے۔
 خیا ل رہے کہ اکالی دل اور بی جے پی کا رشتہ کافی پرانا ہے۔ یہ این ڈی اے کی سب سے پرانی حلیف ہے۔۵۳؍ سال قبل دونوں ساتھ آئے تھے تب بی جے پی  اپنی پرانی شکل ’بھارتیہ جن سنگھ‘ کے طور پرانتخابی میدان میں اُترتی تھی۔اُس وقت ان دنوں نے  انتخابات کے بعد  اتحاد کیا تھا۔ پنجاب اور ہریانہ کی تشکیل کے بعدہونے والے الیکشن میں ۱۰۴؍ رکنی اسمبلی میں  اکالی دل کو ۳۶؍ اور  جن سنگھ کو ۹؍سیٹیں ملی تھیں۔ اقتدار کی لالچ میں دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد ہوا تھا۔ اس کے بعد دونو ں پارٹیوں نے کئی بار اتحاد کیا اور کئی بار علاحدگی اختیار کی لیکن  ۱۹۹۷ء سے دونوں ہی نہایت’مضبوطی‘ سے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی تھیں لیکن گزشتہ چند برسوں میں دونوں کے درمیان رسہ کشی کافی بڑھ گئی تھی۔ مہاراشٹر کی طرح پنجاب میں بھی بی جے پی کے عزائم کافی بڑھ گئے اور  وہ اب چھوٹے بھائی کے بجائے بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا چاہتی تھی۔ اکالی دل کو اس کاا حساس ہوا تو اسے اپنی زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی لہٰذا  اس نے کسان بل کے موضوع کو ایک بہتر موقع سمجھتے ہوئے اس سے علاحدگی اختیار کرلینا مناسب سمجھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK