• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے آئی سوریہ کانت کے استعفے کے مطالبے کی سپریم کورٹ کی تنظیموں نے مذمت کی

Updated: October 13, 2026, 5:05 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن اور سپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ اسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے سوشل میڈیا بیانات پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو منظور کی گئی الگ الگ قراردادوں میں دونوں تنظیموں نے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور انصاف کی آزادانہ فراہمی میں مداخلت کے مترادف ہیں۔

Chief Justice of India Surya Kant.Photo: INN
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن (ایس سی بی اے) اور سپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ اسوسی ایشن (ایس سی اے او آر اے) نے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے عوامی بیانات کی مذمت کرتے ہوئے عدلیہ کے وقار اور آزادی کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ دونوں تنظیموں نے ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو اپنی اپنی قراردادیں منظور کیں۔ ان میں کہا گیا کہ عدلیہ ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کے کام کاج سے متعلق شکایات کو مناسب قانونی اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے اٹھایا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن نے اپنی قرارداد میں کہا کہ ہر شخص کو عدالت سے رجوع کرنے اور قانون کے مطابق داد رسی حاصل کرنے کا موقع حاصل ہے۔ قرارداد کے مطابق، ’’اس قسم کے بیانات عدلیہ جیسے ادارے کی توہین اور اس کی تحقیر کرتے ہیں اور یہ انصاف کی فراہمی میں مداخلت کی کوشش کے مترادف ہیں۔‘‘ تنظیم نے اپنے اراکین اور دیگر افراد سے اپیل کی کہ وہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے وقار، احترام اور نظم و ضبط کو برقرار رکھیں۔ قرارداد پر اسوسی ایشن کی اعزازی سکریٹری پرگیا بگھیل کے دستخط ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کی قیادت میں ’انڈیا‘ کا تاریخی مارچ، اجتماعی پٹیشن

ایس سی اے او آر اے نے قانونی و آئینی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا
سپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ اسوسی ایشن نے بھی چیف جسٹس سوریہ کانت کے استعفے کے مطالبے پر شدید ناپسندیدگی ظاہر کی۔ اپنی قرارداد میں تنظیم نے کہا کہ عدلیہ قانون کی بالادستی قائم رکھنے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار آئینی اتھارٹی ہے۔ قرارداد کے مطابق، عدالتی کارروائی یا عدلیہ کے کام کاج سے متعلق کسی بھی شکایت کو مناسب قانونی اور آئینی راستوں کے ذریعے اٹھایا جانا چاہیے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ عدلیہ کے سربراہ سے استعفے کا مطالبہ کرنے والے عوامی بیانات ان کے عہدے کے وقار کو مجروح کرنے کے ساتھ ادارے پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ ایس سی اے او آر اے نے متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ عدلیہ کی آزادی کا احترام کریں اور سپریم کورٹ کے وقار کو برقرار رکھیں۔ قرارداد میں کہا گیا، ’’عدالتی عمل کو کسی بھی دباؤ یا مداخلت کے بغیر، مکمل طور پر خود مختارانہ انداز میں کام کرنے دیا جانا چاہیے۔‘‘ اس قرارداد پر تنظیم کی اعزازی سکریٹری یوگندھرا پوار جھا کے دستخط ہیں۔

کیرالا کانگریس کی پوسٹ سے تنازع شروع ہوا
یہ معاملہ کیرالا کانگریس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شائع ہونے والی ایک پوسٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں چیف جسٹس سوریہ کانت سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ اگر قانون و نظم کی صورتِ حال چیف جسٹس کے دائرۂ کار میں نہیں آتی تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے اور ان کی جگہ کسی دوسرے شخص کو مقرر کیا جاسکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب چیف جسٹس نے کانگریس لیڈروں کی جانب سے ملاقات کی درخواست قبول نہیں کی تھی۔ کانگریس رہنما انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے معاملے پر چیف جسٹس سے ملاقات کرنا چاہتے تھے۔ سوریہ کانت نے مؤقف اختیار کیا کہ زیرِ سماعت معاملات پر سیاسی لیڈروں سے الگ ملاقات عدالتی عمل اور اختیارات کی تقسیم کے اصول سے متعلق سوالات پیدا کرسکتی ہے۔ کیرالا کانگریس نے بعد میں متنازع پوسٹ حذف کردی۔ کانگریس کی قومی قیادت نے بھی اس بیان سے خود کو الگ کرتے ہوئے عدلیہ پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ اس طرح تنازع صرف چیف جسٹس کے استعفے کے مطالبے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے سیاسی اختلاف، عدالتی آزادی اور آئینی اداروں کے احترام سے متعلق بحث کو بھی جنم دیا۔

یہ بھی پڑھئے: پونے: ایم پی ایس سی امیدواروں کا احتجاج رنگ لایا

عدلیہ کی آزادی اور اختلافِ رائے کے قانونی طریقے
دونوں بار تنظیموں کی قراردادوں کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عدالتی فیصلوں یا کام کاج سے متعلق اختلافات کو قانونی و آئینی طریقۂ کار کے تحت اٹھایا جائے اور عدلیہ کو دباؤ سے آزاد رہ کر کام کرنے دیا جائے۔ تاہم، ان قراردادوں کو عدلیہ پر ہر قسم کی تنقید کی ممانعت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا؛ ان میں خاص طور پر چیف جسٹس کے استعفے کے مطالبے والے بیانات اور ان کے ممکنہ ادارہ جاتی اثرات پر اعتراض کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دہلی میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف احتجاج، مظاہرین کی حراست اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر سیاسی کشیدگی جاری ہے۔ اس پس منظر میں عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور شہریوں کے درمیان آئینی حدود اور قانونی راستوں سے متعلق بحث مزید اہم ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK