سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر کیس: ۲۲؍بری شدہ ملزمین کو نوٹس،کچھ گواہوں کے بیانات کا جائزہ لینے کا بھی عندیہ۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 12:33 PM IST | Agency | New Delhi
سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر کیس: ۲۲؍بری شدہ ملزمین کو نوٹس،کچھ گواہوں کے بیانات کا جائزہ لینے کا بھی عندیہ۔
سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر معاملے میں سپریم کورٹ نے بامبےہائی کورٹ کی جانب سے۲۲؍ ملزمین کو جن میں ۲۱؍پولیس اہلکاربھی شامل ہیںبری کئے جانے کیخلاف دائرعرضی پر سماعت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی اور نوٹس جاری کردیا۔ تاہم عدالت نے اس معاملہ میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو مقدمے سے بری کیے جانے کے فیصلہ کا دوبارہ جائزہ لینے سے انکار کر دیا۔
عرضی گزار کی جانب سے سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو نے کہا، ’’ایسے فارینسک شواہد موجود ہیں جو سچائی سامنے لا سکتے تھے، گولیوں کے زخم اور کارتوس بھی ملے تھے۔انہوں نے کہاکہ سہراب الدین شیخ کے بھائی کا کہنا ہے کہ میری بھابھی کا سراغ تک نہیں مل سکا‘ ممکن ہے کہ بعض گواہ منحرف ہو گئے ہوں، لیکن اس معاملہ کو دبایا نہیں جا سکتا۔‘‘جسٹس باغچی نے کہا ’’مسٹر نائیڈو، ہماری تشویش بھی یہی ہے۔ کسی مقدمہ کی سماعت کے دوران اگر۹۲؍ گواہ اپنے بیانات سے منحرف ہو جائیں تو یہ سنگین تشویش کا معاملہ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’لیکن ہم پیراگراف ۴۳؍ پر(یعنی امیت شاہ کو بری کئے جانے کے خلاف) نوٹس جاری نہیں کریں گے۔‘‘
نائیڈو نے کہا، ’’ معزز عدالت کو اس معاملہ پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔‘‘ جسٹس باغچی نے کہا، ’’یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے، اسے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔‘‘ہائیکورٹ نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بظاہر یہ درخواست وزیر کے ’’سیاسی مخالفین کے اشارے پر ایک پوشیدہ مقصد‘‘ کے تحت دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ درخواست گزار نے اس حقیقت کو ظاہر نہیں کیا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں ہی امیت شاہ کو مقدمہ سے بری کیے جانے کے خلاف دائر درخواستوں کو مسترد کر چکے ہیں۔وکیل نے بتایا کہ عرضی گزار۲۰۱۰ء سے اس معاملہ کی پیروی کر رہے ہیں اور انہی کی کوششوں کے نتیجے میں معاملہ سی بی آئی کو منتقل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملزمین کی بریت کی بنیادی وجہ گواہوں کا اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوجانا تھی، اسلئے معاملہ پر دوبارہ غور ضروری ہے۔ بنچ نے کہا’’ہم کچھ گواہوں کے بیانات دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
عرضی گزارنے کیا کہا ؟
عرضی گزار کی جانب سے سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایک’فرضی انکاؤنٹر‘ کا واقعہ تھا، جس میں انکے موکل کے بھائی، بھابھی اور دوست کو ’’ سفاکانہ قتل‘‘ کیا گیا۔ نائیڈو نے کہا کہ سہراب الدین پولیس کے ناقد تھے اور انہیں حیدرآباد سے بس کے سفر کے دوران سادہ لباس میں موجود پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر اٹھایا تھا، جس کے بعد ان کا انکاؤنٹر کر دیا گیا۔