Updated: February 18, 2026, 8:17 AM IST
| New Delhi
ہیمنت بسواسرما کی نفرت انگیز تقریر کیخلاف داخل عرضی پر چیف جسٹس کی بنچ کا تبصرہ۔ آئینی عہدوں پرفائز افراد کی نازیبا تقاریر پر پابندی کا
مطالبہ کر نےوالی عرضی میں سپریم کورٹ نے ترمیم کا مشورہ دیا اور زبانی مشاہدے میں سیاستدانوں کو آئینی اخلاقیات کا پاس رکھنے کی بات کہی
سپریم کورٹ کے زبانی مشاہدے سے عوام میں امید کی کرن جاگی ہے
آئینی عہدوں پر براجمان افراد کے ذریعہ ملک میں مسلسل نفرت انگیزی اور زہرافشانی کے خلاف۹؍اہم شخصیات کی سپریم کورٹ پر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس کی بنچ نےسیاستدانوں کو اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے انہیں کئی نصیحتیں کیں۔عدالت عظمیٰ نے اپنے زبانی مشاہدے میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ملک میں بھائی چارے کو فروغ دینا چاہئے، اور تمام سیاسی جماعتوں کو آئینی اخلاقیات پر عمل کرنا چاہے۔ سپریم کورٹ نے اخلاقیات کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ انہیں باہمی احترام کی بنیاد پر انتخابات لڑنا چاہئے۔
گزشتہ دنوں آسا م کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے والی عرضی کومسترد کرنے اور اس معاملے کو گوہاٹی ہائی کورٹ میں لے جانے کا مشورہ دیئے جانے کے بعدمنگل کو پھر سے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس بی وی ناگ رتنا اور جوئےمالیاباغچی کی بنچ کے روبرو اسی طرح کی ایک عرضی کی سماعت عمل میںآئی۔ اس مقدمے میں بھی آئینی عہدوں پر فائز افراد کی غیر مناسب تقاریر کو روکنے کیلئے رہنما خطوط کا مطالبہ کیا گیاتھا۔عرضی میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما، اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی، یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال جیسے کئی لیڈران اور افسران کے بیانات کا حوالہ دیا گیا تھا۔
عرضی گزاروںکی جانب سے پیش سینئر وکیل کپل سبل نے بنچ پر زور دیا کہ اس معاملے میں کچھ کرنے کی ضرور ت ہے کیونکہ یہ سب کچھ زہریلا ہوتا جا رہا ہے۔ انہوںنے واضح کیا کہ یہ درخواست کسی فرد واحد کیلئے نہیں ہے۔اس پر جسٹس سوریہ کانت نے اس میں ہیمنت شرما کا ذکر کرنے پر اعتراض کیا۔کپل سبل نے جواب میں کہا کہ صرف ان کی تقریروں کا حوالہ دیا گیا ہے ،اس میں کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بنچ کو یقین دلایا کہ وہ ہیمنت شرما کے حوالے کو حذف کردیں گے لیکن عدالت کو اس بڑے مسئلہ کو دیکھنا چاہئے۔
جسٹس سوریہ کانت نے تسلیم کیا کہ عرضی گزار اہم اور نامور افراد ہیں اور عدالت ان کا اور ان کے ذریعہ اٹھائے گئے سنجیدہ معاملہ کااحترام کرتی ہے۔سی جے آئی نے تجویز پیش کی کہ موجودہ عرضی کو واپس لے لیا جائے اور صرف آئینی اصولوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک نئی عرضی دائر کی جائے۔ سی جے آئی نے مزیدکہاکہ درخواست گزاروں کو یہ تاثر پیدا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی خاص پارٹی یا فرد کے خلاف ہیں۔
بنچ کی بات سننے کے بعد کپل سبل نے واضح کیا کہ اس میں کسی خاص شخص کے خلاف کسی کارروائی کا مطالبہ نہیں کیاگیا،لیکن سوریہ کانت نےکہا کہ کچھ افراد کو چن کر منتخب کیا گیا، جبکہ دوسروں کو آسانی سے نظر انداز کردیاگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنچ اس معاملےپر مناسب طریقہ سے دائر درخواست کا انتظار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم درخواست پر غور کرنے کیلئے آمادہ ہیں اوراس کیلئے ہم بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی ہمارے سامنے معروضی اور غیر جانبداری کے ساتھ آئے۔
درخواست گزاروں میں ڈاکٹر روپ ریکھا ورما، سابق وائس چانسلر ،راجیہ سبھا کے سابق رکن محمد ادیب، سابق آئی اے ایس آفیسرہرش مندر، دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، ڈاکٹر جان دیال،سماجی کارکن دیا سنگھ،سابق آئی اے ایس ادیتی مہتا، فارن سروس کے سابق افسران سریش کے گوئل، اشوک کمار شرما اور سابق آفیسر انڈین پوسٹل سروس سبودھ لال شامل ہیں۔