Updated: February 14, 2026, 5:04 PM IST
| New Delhi
مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ملک بھر کی عدالتوں میں۴؍ کروڑ۷۶؍ لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں، جن میں ہائی کورٹ میں ۶۳؍ لاکھ۶۶؍ ہزار سے زائد اور سپریم کورٹ میں ۹۲؍ ہزار۱۰۱؍ مقدمات شامل ہیں، حکومت نے مقدمات کے جلدتکمیل کیلئے متعدد اقدامات پر عمل کرنے کا اعادہ کیا۔
مرکزی وزارت قانون و انصاف نے جمعرات کو لوک سبھا میں بتایا کہ ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں ۴؍ کروڑ۷۶؍ لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں،جن میں ہائی کورٹ میں ۶۳؍ لاکھ۶۶؍ ہزار سے زائد اور سپریم کورٹ میں ۹۲؍ ہزار۱۰۱؍ مقدمات شامل ہیں۔قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارجن رام میگھوال نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (NJDG) پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۵ء تک ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں ۴۷۶۳۵۷۲مقدمات زیر التواء تھے۔وزیر نے یہ بھی بتایا کہ۳۱؍ دسمبر۲۰۲۵ء تک سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد۹۲۱۰۱؍ تھی، جو گزشتہ تین سالوں کے دوران ۱۱؍ اعشاریہ ۴۰؍ فیصد کا اضافہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ۳۱؍ دسمبر۲۰۲۵ء تک ملک کی۲۵؍ ہائی کورٹ میں کل ۶۳۶۶۰۲۳؍ مقدمات زیر التواء تھے، جو اسی عرصے کے دوران۴؍ اعشاریہ ۷۵؍ فیصد اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کے ۱۵؍ سینیئر وکلاء نے دیپک کمار کے جم کی ممبرشپ خریدی، مفت قانونی امداد کی بھی پیشکش
جبکہ ہائی کورٹ میں الہ آباد ہائی کورٹ میں سب سے زیادہ۱۲۰۷۲۴۰؍ مقدمات زیر التواء ہیں، اس کے بعد بمبئی ہائی کورٹ میں ۶۶۴۹۷۹؍ اور راجستھان ہائی کورٹ میں۶۸۷۵۹۵؍ مقدمات دائر ہیں۔ڈیٹا کے مطابق ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں زیر التواء مقدمات میں گزشتہ تین سالوں میں۵؍ اعشاریہ ۸۴؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، جو۳۱؍ دسمبر۲۰۲۵ء تک بڑھ کر۴۷۶۵۷۳۲۸؍ ہو گئے۔
تاہم ریاستی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف اتر پردیش میں ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں ۱۱۳۴۵۳۲۸؍مقدمات زیر التواء ہیں، جبکہ مہاراشٹر میں ۵۹۲۶۹۹۹؍اور مغربی بنگال میں ۳۸۳۵۱۱۳؍مقدمات ہیں۔وزیر نے کہا کہ مقدمات کا فیصلہ عدلیہ کا خصوصی دائرہ اختیار ہے، تاہم حکومت نے تیز رفتار فیصلوں کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، عدالتوں کا کمپیوٹرائزیشن، خالی آسامیوں کو پُر کرنا اور متبادل تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو فروغ دینا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت آئین کے آرٹیکل۲۱؍ کے تحت مقدمات کے تیز رفتار فیصلوں اور زیر التواء مقدمات کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور عدلیہ کی جانب سے تیز رفتار فیصلوں کے لیے سازگار نظام فراہم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے انصاف کی فراہمی اور قانونی اصلاحات کے لیے قومی مشن، لوک عدالتوں کا فروغ، تجارتی اور فوجداری قوانین میں ترامیم، اور ای-کورٹ منصوبے پر زور دیا تاکہ مقدمات میں ہونے والی تاخیر کو دور کیا جا سکے اور عدلیہ کی تمام سطحوں پر کیس مینجمنٹ کو بہتر بنایا جا سکے۔