• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گزشتہ۱۰؍ سال میں موجودہ ججوں کے خلاف ۸؍ ہزار سے زائد شکایات: مرکز پارلیمنٹ میں

Updated: February 15, 2026, 2:12 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت نے جمعہ کو پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ گزشتہ۱۰؍ سالوں میں چیف جسٹس کے دفتر کو موجودہ ججوں کے خلاف ۸۶۳۰؍ شکایات موصول ہوئیں،ان میں سب سے زیادہ شکایات۲۰۲۴ء میں موصول ہوئیں، جو۱۱۷۰؍ تھیں، جبکہ سب سے کم۲۰۲۰ء میں ۵۱۸؍ تھیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت نے جمعہ کو پارلیمنٹ  میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ۱۰؍ سالوں میں چیف جسٹس کے دفتر کو موجودہ ججوں کے خلاف۸۶۳۰؍ شکایات موصول ہوئیں۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال کی طرف سے لوک سبھا میں پیش کردہ اعداد و شمار۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان موصول ہونے والی شکایات  کے مطابق سب سے زیادہ شکایات۲۰۲۴ء میں موصول ہوئیں، جو۱۱۷۰؍ تھیں، جبکہ سب سے کم۲۰۲۰ء میں ۵۱۸؍ تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: ملک بھر کی عدالتوں میں۴؍ کروڑ۷۶؍ لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء

دراصل میگھوال ، ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ متھیشورن وی ایس کے سوال کا جواب دے رہے تھے، جنہوں نے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف بدعنوانی ،جنسی بدسلوکی یا دیگر سنگین جرائم سے متعلق شکایات کی فہرست مانگی تھی۔ڈی ایم کے رکن نے پوچھا کہ آیا ان شکایات پر کوئی کارروائی کی گئی؟ انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ کیا مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ کی جانب سے ایسی شکایات کا ریکارڈ یا ڈیٹا بیس برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے جانے والے کسی طریقہ کار کے بارے میں معلومات  ہے؟تاہم وزیر نے کارروائی یا ریکارڈ کی دیکھ بھال سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا۔جبکہ  میگھوال نے کہا کہ داخلی طریقہ کار کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ،ججوں کے خلاف شکایات وصول کرنے کے مجاز ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ملک بھر میں کل ۱۳؍ ہزار ۸۱۸؍ ضلعی اور سیشن ججوں میں صرف ۷۱۱؍ مسلمان جج؛ تمل ناڈو سرفہرست

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا داخلی طریقہ کار ہے جو ججوں کے خلاف بدانتظامی کے الزامات سے نمٹنے کے لیے ہے۔وزیر نے یہ بھی بتایا کیا کہ سنٹرلائزڈ پبلک گریوینس ریڈریس اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (CPGRAMS) یا کسی اور شکل کے ذریعے عدلیہِ عالیہ کے اراکین کے خلاف موصول ہونے والی شکایات متعلقہ  ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یا چیف جسٹس آف انڈیا کو بھیج دی جاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK