Updated: September 11, 2026, 2:05 PM IST
| Washington
سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی عوام نے ایک بار پھر بنیامن نیتن یاہو کی حکومت کو منتخب کیا تو امریکہ کو اسرائیل کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ کلنٹن نے نیتن یاہو کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے خلاف سخت کارروائی پر بھی زور دیا۔
ہلیری کلنٹن۔ تصویر: آئی این این
سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جمعرات کو کہا کہ اگر اسرائیلی عوام دوبارہ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت کو منتخب کرتے ہیں تو امریکہ کو اسرائیل کے حوالے سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنا چاہئے۔ کلنٹن نے براڈکاسٹر ایم ایس ناؤ (MS Now) سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل میں ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’اگر اسرائیلی دوبارہ اسی حکومت کو ووٹ دینا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں امریکہ کو بہت سخت مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔‘‘ کلنٹن نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے قبل متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کو حماس کی جانب سے حملے کی منصوبہ بندی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے یا تو اس انتباہ پر یقین نہیں کیا یا پھر یہ سوچا کہ وہ اس صورتحال کو اپنے فائدے کیلئے کیسے استعمال کرسکتے ہیں تاکہ وہ ’’سخت کارروائی‘‘ کریں، جس سے ان کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہوسکتی تھی۔ کلنٹن نے کہا، ’’یہ قیادت کی ناکامی تھی۔ یہ اسرائیلی عوام کے تحفظ میں ناکامی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’میں بارہا کہہ چکی ہوں کہ میں اسرائیل سے محبت کرتی ہوں اور نیتن یاہو کی حکومت اور اس کی پالیسیوں سے نفرت کرتی ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جے ڈی وینس کی تقریر کے دوران احتجاج، میکسیکو اور فلسطین کا پرچم لہرایا گیا
ٹرمپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جو ۲۰۱۶ء کے صدارتی انتخابات میں کلنٹن کے حریف تھے اور جنہوں نے کامیابی حاصل کرکے پہلی بار صدر کا عہدہ سنبھالا، انہوں نے کہا، ’’میں امریکہ سے محبت کرتی ہوں اور ٹرمپ کی حکومت اور اس کی پالیسیوں سے نفرت کرتی ہوں۔‘‘ کلنٹن نے یہ بھی کہا کہ اگر نیتن یاہو مزید وزیر اعظم نہ رہیں تو اس سے واقعی فرق پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے امید ہوگی کہ نیا وزیر اعظم مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اس قسم کے تشدد کے لیے کسی کو بھی سزا سے استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ معاشرے میں لوگوں کو اس حد تک تشدد کی اجازت دینا فلسطینیوں کیلئے ’’ناانصافی اور غلط‘‘ ہے، جبکہ یہ اسرائیل کیلئے بھی ’’انتہائی خطرناک‘‘ ہے۔ کلنٹن نے کہا، ’’جب بھی آپ کسی معاشرے میں لوگوں کو اس سطح کا تشدد کرنے دیتے ہیں اور اسے روکتے نہیں ہیں تو یہ پورے معاشرے میں سرایت کرنے لگتا ہے۔‘‘ واضح ہو کہ کلنٹن کا یہ بیان اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ میں نسل کشی کے آغاز کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے دوران سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت ہند کے حکم کے باوجود میٹا بچوں کیساتھ زیادتی والے اشتہار چلا رہا ہے: رپورٹ
فلسطینی حکام نے ہلاکتوں، گرفتاریوں، گھروں کی مسماری، مساجد اور گاڑیوں پر حملوں، زرعی زمینوں کی تباہی، کسانوں کو اپنی زمینوں تک رسائی سے روکنے اور جبری بے دخلی کے واقعات کی دستاویزات مرتب کی ہیں۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور آبادکاروں کا تشدد مغربی کنارے کو باضابطہ طور پر اسرائیل میں ضم کرنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں، جس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششیں متاثر ہوں گی۔