سشانت سنگھ کی خود کشی، تفتیش سے اب تک کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا : سی بی آئی

Updated: September 29, 2020, 10:10 AM IST | Nadeem Asran | New Delhi

اداکار سشانت سنگھ راجپوت خود کشی معاملہ میں سیاسی مداخلت کے بعد سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن ( سی بی آئی )کو اس کیس کی تفتیش کی ذمہ داری سونپی گئی تھی

Sushant SIngh Rajput - Pic : INN
سشانت سنگھ راجپوت ۔ تصویر : آئی این این

اداکار سشانت سنگھ راجپوت خود کشی معاملہ میں سیاسی مداخلت کے بعد سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن ( سی بی آئی )کو اس کیس کی تفتیش کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔ ایجنسی نے  پیر کو جو بیان جاری کیا ہے اس سے سب حیرت زدہ ہیں ۔ سی بی آئی کے ترجمان کے  جاری کردہ   بیان کے مطابق ’’ اداکار کی خود کشی معاملہ میں اب تک کی گئی تفتیش سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے  حالانکہ اس کیس کی تفتیش ہر پہلو سے کی جارہی ہے  ۔‘‘ دوسری جانب ریاستی وزیر داخلہ   انل دیشمکھ نے بھی اس ضمن میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’سی بی آئی کی تفتیش کا کیا نتیجہ نکلے گا اس کا ہمیں بھی انتظار ہے ۔‘‘
 مرکزی ایجنسی کے ترجمان کے بقول تفتیش کے دوران ہر پہلو سے جانچ کی گئی لیکن اب تک کی گئی تفتیش سے ضروری نہیں کہ کوئی نتیجہ اخذ کر لیا جائے ۔ تقریباً ۷؍ سال قبل فلم’ کائے پوچھے ‘ میں ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر خود کشی کرنے والے اداکار نے ۱۴؍ جون کو باندرہ میں اپنے فلیٹ میں حقیقت میں خود کشی جیسا انتہائی قدم اٹھا یا تھا ۔اداکار کی خودکشی کے بعد جہاں ایک طرف ان کے اہل خانہ نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے اداکارہ ریاچکروتی پر خود کشی پر آمادہ کرنے کے تحت کیس درج کرایا  تھا اور ساتھ ہی  سشانت کے اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنے کا الزام بھی لگایا تھا  اور اس معاملہ کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی اپیل کی تھی ۔ 
  و اضح رہے کہ ممبئی پولیس کی تفتیش پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے اس کیس کی تفتیش جہاں سی بی آئی کو سونپی گئی  وہیں مذکورہ بالا کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے بھی پیسوں کے لین دین کے ساتھ ساتھ منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال میں ملوث فلم انڈسٹری کے بڑے ریکٹ کا پردہ فاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب سی بی آئی کی تفتیش پر بھی انگلیاں اٹھنے لگی ہے ۔ سی بی آئی کی سست روی سے کی جانے والی تفتیش پر بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے  سشانت کے والد کے وکیل نے بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب سشانت کی موت کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے بلکہ صرف منشیات سے وابستہ انڈسٹری کے لوگوں کو’ کیٹ واک‘ کرایا جا رہا ہے ۔وکیل نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایجنسی کی تفتیش پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم بے یار مدد گار ہوگئے ہیں ۔  
 سی بی آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’ اب تک سشانت سے متعلق چلائی جانے والی خبریں ذرائع ابلاغ کی خیالی تصویر پر مبنی تھیں کیونکہ ایجنسی نے کبھی بھی تفتیش کی تفصیلات میڈیا سے شیئر نہیں کی ہے ۔‘‘ سی بی آئی کے اس جواب پر ریاستی وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ڈیڑھ ماہ تک ممبئی پولیس نے پروفیشنل طریقہ سے اس کیس کی تفتیش کی تھی لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ کے توسط سے تفتیش سی بی آئی کے سپرد کرائی گئی ۔ اب ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ سی بی آئی اپنی ڈیڑھ ماہ کی تفتیش سے مذکورہ بالا کیس سے متعلق کیا نتیجہ اخذ کرتی ہے ۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK