• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیلین میکسویل کا’ نائن الیون‘ حملوں کے بعد عربوں کے خاتمے پر مبنی متنازع ای میل

Updated: February 10, 2026, 9:59 PM IST | Washington

گیلین میکسویل سے منسوب ایک پرانی ای میل منظرِ عام پر آئی ہے جس میں ’ نائن الیون ‘کے بعد عربوں کے خاتمے پر مبنی ایک متنازع خیالی کہانی بیان کی گئی تھی۔ ادھر جیل میں قید میکسویل نے صدارتی معافی کی صورت میں امریکی کانگریس کے سامنے گواہی دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

Ghislaine Maxwell. Photo: INN
گیلین میکسویل۔ تصویر: آئی این این

جیفری ایپسٹین کی ساتھی گیلین میکسویل، جو۲۰۲۱ء میں ایپسٹین کی جانب سے نوعمر لڑکیوں کے جنسی استحصال میں مدد کرنے کے جرم میں مجرم قرار دی گئیں اور اس وقت ۲۰؍ سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں، نے۱۱؍ ستمبر۲۰۰۱ء کو نیویارک میں ہونے والے حملوں کے بعد تقریباً۴۲؍ افراد کو ایک ای میل بھیجی جس میں دنیا بھر میں عربوں کی تباہی کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ ای میل کا مواد ایک خیالی کہانی پر مشتمل تھا جو سن۲۰۳۲ء میں ترتیب دی گئی تھی، جس میں ایک ایسی دنیا دکھائی گئی تھی جہاں ’’عرب‘‘ عالمی سطح پر ختم کر د یئے گئے تھے۔ 
اس تصوراتی مستقبل میں، ایک باپ اپنے بیٹے کو ایک تاریخی واقعے کے بارے میں بتاتا ہے جسے’’ نائن الیون ‘‘کہا جاتا ہے۔ بیٹا پوچھتا ہے کہ ’عرب‘ کیا تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب موجود نہیں رہے۔ باپ وضاحت کرتا ہے کہ عرب ایک قوم تھی جس نے’ نائن الیون‘کے حملے کئے جس کے بعد دنیا متحد ہوئی اور انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔ حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی ایک ای میل میں، جس کے ساتھ کوئی سیاق و سباق منسلک نہیں تھا، میکسویل نے ایک رابطے کو، جسے ’دی اِنویزیبل مین‘ کہا گیا، لکھا:’’یہ سن۲۰۳۲ء ہے، اور ایک باپ اور اس کا بیٹا لوئر مین ہیٹن کی سڑکوں پر چل رہے ہیں۔ اس مقام کے قریب پہنچ کر جہاں ۲۰؍ویں صدی کے آخر میں (ورلڈ ٹریڈ سینٹر) موجود تھا، باپ آہ بھرتا ہے اور کہتا ہے، سوچو، یہی وہ جگہ ہے جہاں کبھی جڑواں ٹاورز ہوا کرتے تھے۔ بیٹا، جو بات کو نہیں سمجھتا، اپنے باپ سے پوچھتا ہے: ’جڑواں ٹاورز کیا تھے؟‘باپ مسکراتا ہے، بیٹے کی طرف دیکھتا ہے اور سمجھاتا ہے’’جڑواں ٹاورز دو بہت بڑی عمارتیں تھیں جو ۲۰۰۱ءتک یہاں موجود تھیں، جب عربوں نے انہیں تباہ کر دیا۔ ‘‘بیٹا اپنے باپ کی طرف دیکھ کر پوچھتا ہے: ’’اور عرب کیا تھے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے ہندوستان پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی تھی: روسی وزیر خارجہ کا الزام

رپورٹس کے مطابق، میکسویل نے یہ ای میل اپنے درجنوں رابطوں کو بھیجی، جن میں ارب پتی تھامس پرٹزکر سمیت ایپسٹین/میکسویل نیٹ ورک سے وابستہ دیگر اشرافیہ بھی شامل تھے۔ میکسویل کو دسمبر۲۰۲۱ء میں نیویارک کے جنوبی ضلع کی امریکی ضلعی عدالت میں ہونے والے مقدمے کے بعد پانچ وفاقی سنگین جرائم میں مجرم قرار دیا گیاجو۱۹۹۴ء سے۲۰۰۴ء کے درمیان یہودی نژاد امریکی مالیاتی سرمایہ کار ایپسٹین کے ساتھ مل کر کم عمر افراد کو بھرتی کرنے، بہلانے اور ان کے جنسی استحصال میں سہولت فراہم کرنے سے متعلق تھے۔ انہیں ایک الزام یعنی نابالغ کو غیر قانونی جنسی عمل کیلئے سفر پر آمادہ کرنےسے بری کر دیا گیا۔ جون۲۰۲۲ء میں میکسویل کو۲۰؍ سال قید کی سزا سنائی گئی، جسے۲۰۲۴ء میں سیکنڈ سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے برقرار رکھا۔ اب تک، ان کی سزا کو چیلنج کرنے کی تمام اپیلیں اور درخواستیں ناکام رہی ہیں۔ 
معافی ملنے پر گواہی دینے کیلئے تیار
قانون سازوں کے مطابق، پیر کو میکسویل نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے نگرانی اور حکومتی اصلاحات کے سامنے ہونے والی ایک ڈپوزیشن میں سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا۔ کمیٹی کے چیئرمین، ریپبلکن رکنِ کانگریس جیمز کومر نے صحافیوں سے کہا:’’یہ ظاہر ہے کہ انتہائی مایوس کن ہے۔ ہمارے پاس ان جرائم کے بارے میں بہت سے سوالات تھے جو اس نے اور ایپسٹین نے کئے، اور ممکنہ شریک سازشیوں کے بارے میں بھی سوالات تھے۔ ‘‘تاہم، میکسویل نے اشارہ دیا کہ اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے انہیں معافی (کلیمینسی) دی جائے تو وہ گواہی دینے کیلئے تیار ہیں، اور دعویٰ کیا کہ وہ یہ کہہ سکتی ہیں کہ نہ ٹرمپ اور نہ ہی سابق صدر بل کلنٹن کا ایپسٹین کے ساتھ تعلق میں کوئی غلط کردار تھا۔ بند کمرہ ڈپوزیشن کے دوران، میکسویل کے وکیل ڈیوڈ آسکر مارکس نے کمیٹی کو دیئے گئے بیان میں کہا:’’اگر صدر ٹرمپ کی جانب سے معافی دی جائے تو میکسویل مکمل اور ایمانداری سے بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: امیگریشن عدالت نے فلسطین حامی رومیسا اورترک کی جلاوطنی کا مقدمہ خارج کیا

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اور کلنٹن کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں، لیکن مس میکسویل ہی وضاحت کر سکتی ہیں کہ ایسا کیوں ہے، اور عوام اس وضاحت کے حقدار ہیں۔ تاہم، کمیٹی کے ڈیموکریٹ اراکین نے میکسویل پر الزام لگایا کہ وہ اس ڈپوزیشن کو ٹرمپ سے معافی حاصل کرنے کی مہم کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، اور ریپبلکن صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی کسی بھی ممکنہ معافی کو مسترد کریں۔ ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جیمز واکنشاو نے کہا:’’ہمیں ان سوالات کے کوئی ٹھوس جوابات نہیں ملے جو ہماری تحقیقات کو آگے بڑھا سکتے۔ جو ہمیں ملا وہ صدر ٹرمپ سے معافی حاصل کرنے کی ان کی طویل مہم کا ایک اور باب تھا۔ اور صدر ٹرمپ آج ہی اس کا خاتمہ کر سکتے ہیں وہ گیلین میکسویل کو معافی نہ دینے کا اعلان کر سکتے ہیں، اس درندہ صفت انسان کو۔ ‘‘ریپبلکن رکنِ کانگریس اینا پالینا لونا نے سوشل میڈیا پر لکھا:’’کوئی معافی نہیں۔ یا تو تعاون کرو یا سزا کا سامنا کرو۔ تم نے جو کیا اس کیلئے تم انصاف کی مستحق ہو، اے درندہ۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK