Updated: July 08, 2026, 2:56 PM IST
| Damascus
شام کے طویل ترین عرصے تک قید رہنے والے سابق فوجی پائلٹ رغید احمد الططری نے کہا ہے کہ ۴۳؍ برس بعد جیل سے رہائی سے زیادہ خوشی انہیں بشار الاسد حکومت کے خاتمے پر ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ۱۹۸۱ء میں فوجی احکامات پر عمل نہ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا اور چار دہائیوں سے زائد عرصے میں مختلف جیلوں میں بدترین تشدد، تنہائی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ الططری نے شام کی بدنام زمانہ تدمر اور صیدنایا جیلوں کے حالات کو حراستی کیمپوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں قیدیوں کی جان کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔
رغید احمد الططری۔ تصویر: ایکس
شام کے سب سے طویل عرصے تک قید رہنے والے سابق فوجی پائلٹ رغید احمد الططری نے کہا ہے کہ اگرچہ ۴۳؍ سال بعد جیل سے رہائی ان کے لیے ایک تاریخی لمحہ تھا، لیکن اس سے کہیں زیادہ خوشی انہیں بشار الاسد حکومت کے خاتمے پر ہوئی، کیونکہ اس دن پورا شامی عوام خود کو آزاد محسوس کر رہا تھا۔ ۷۲؍ سالہ الططری نے انادولو نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی چار دہائیوں پر محیط اسیری کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ۱۹۸۱ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر فوجی احکامات کی خلاف ورزی پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا، تاہم ان کے مطابق اصل وجہ فوج کی جانب سے شہریوں کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے مقدمے کی سماعت کسی تربیت یافتہ جج نے نہیں بلکہ ایک فوجی افسر سلیمان الخطیب نے کی، جو نہ قانون دان تھا اور نہ ہی وکیل۔
یہ بھی پڑھئے: شرجیل امام نے دہلی کورٹ سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کی اجازت مانگی
الططری کے مطابق انہوں نے دمشق کی انٹیلی جنس برانچ، المزہ فوجی جیل، تدمر جیل، صیدنایا جیل، عدرا، سویدا اور آخر میں طرطوس جیل سمیت مختلف حراستی مراکز میں مجموعی طور پر ۴۳؍ برس گزارے، جہاں سے دسمبر ۲۰۲۴ء میں ان کی رہائی عمل میں آئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے ۱۵؍ سال صرف تدمر جیل میں گزرے، جہاں ساڑھے تین سال انہوں نے مکمل تنہائی میں گزارے۔ الططری نے کہا کہ تدمر دراصل جیل نہیں بلکہ ایک ’’حراستی کیمپ‘‘ تھا، جہاں قیدیوں کے کوئی حقوق نہیں تھے اور انہیں کسی بھی وقت قتل کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں روزانہ تشدد معمول تھا اور قیدیوں پر مسلسل نگرانی رکھی جاتی تھی۔
ان کے مطابق، بعد میں صیدنایا جیل منتقل کیے جانے کے بعد ابتدائی برسوں میں حالات نسبتاً بہتر تھے، لیکن ۲۰۱۱ء میں شامی انقلاب شروع ہونے کے بعد وہاں بھی شدید تشدد اور تذلیل کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب کے ابتدائی مظاہرے مکمل طور پر پرامن تھے، مگر حکومت نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں عوام کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا۔ الططری نے بتایا کہ بعد میں انہیں شہری جیلوں میں منتقل کیا گیا جہاں وہ دوسرے قیدیوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف آواز اٹھاتے تھے اور جیل حکام سے تشدد روکنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتاری کے ۱۶؍ سال بعد پہلی مرتبہ ۱۹۹۷ء میں انہیں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت ملی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پہلی مرتبہ تھا جب میں نے اپنے بیٹے کو دیکھا، اس وقت وہ ۱۶؍ سال کا ہو چکا تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پاسپورٹ کو شہریت کا ثبوت نہ ماننے کا حکومتی مؤقف قانون کی غلط تشریح: جسٹس لوکر
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ملاقات کے لیے ان کے اہل خانہ کو تقریباً ۲۰؍ ہزار امریکی ڈالر ادا کرنا پڑے تھے۔ اپنی طویل قید کے دوران امید برقرار رکھنے سے متعلق سوال پر الططری نے کہا کہ اگرچہ مایوسی کے لمحات ضرور آئے، لیکن انہیں ہمیشہ یقین تھا کہ ایک دن وہ ضرور آزاد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آخری مہینوں میں انہیں محسوس ہونے لگا تھا کہ بشار الاسد کی حکومت زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی۔ الططری نے کہا کہ جب وہ جیل سے باہر آئے تو پورے شام میں لوگ انقلاب کا پرچم اٹھائے جشن منا رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں اپنی رہائی سے ضرور خوش تھا، لیکن اس سے کہیں زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ حکومت ختم ہو چکی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ جیل سے باہر رہنے والے لوگ بھی دراصل برسوں سے قید تھے، اس لیے ان کی آزادی کی خوشی میری اپنی آزادی سے کہیں بڑی تھی۔‘‘ واضح رہے کہ دسمبر ۲۰۲۴ء میں بشار الاسد تقریباً ۲۵؍ برس اقتدار میں رہنے کے بعد شام چھوڑ کر روس منتقل ہوگئے تھے، جس کے ساتھ ہی ۱۹۶۳ء سے قائم بعث پارٹی کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ بعد ازاں جنوری ۲۰۲۵ء میں احمد الشرع کی سربراہی میں عبوری انتظامیہ قائم کی گئی۔