Updated: July 06, 2026, 7:05 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ کے سابق ریٹائرڈ جج جسٹس مدن بی لوکر نے وزارتِ خارجہ کے اس مؤقف پر سخت اعتراض کیا ہے کہ پاسپورٹ صرف سفری دستاویز ہے اور ہندوستانی شہریت کا ثبوت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ ایکٹ ۱۹۶۷ء میں ’’پاسپورٹ‘‘ اور ’’سفری دستاویز‘‘ کو الگ الگ قانونی اصطلاحات کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، اس لیے دونوں کو ایک قرار دینا قانون کی غلط تشریح ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کا یہی مؤقف برقرار رہا تو اس کے آئینی اور بین الاقوامی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
جسٹس مدن بی لوکر (ریٹائرڈ)۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ) مدن بی لوکر نے وزارتِ خارجہ کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز ہے اور اسے ہندوستانی شہریت کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس لوکر نے کہا کہ حکومت کی یہ تشریح پاسپورٹ ایکٹ ۱۹۶۷ء کی روح اور متن دونوں کے خلاف ہے اور اس کے آئینی و قانونی مضمرات سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ ایکٹ کی تمہید واضح طور پر بتاتی ہے کہ یہ قانون ’’پاسپورٹ اور سفری دستاویزات‘‘ کے اجرا اور ہندوستانی شہریوں سمیت دیگر افراد کے بیرونِ ملک سفر کو منظم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ نے جان بوجھ کر دونوں اصطلاحات کو الگ الگ استعمال کیا ہے، اس لیے انہیں مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: سماجی انصاف کی لڑائی کیلئے تیار رہیں: لالو یادو
لائیو لا کے مطابق جسٹس لوکر نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ غیر ضروری یا بے معنی الفاظ استعمال نہیں کرتی۔ جب قانون میں ‘پاسپورٹ’ اور ‘سفری دستاویز’ الگ الگ درج ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ دو مختلف قانونی دستاویزات ہیں۔ یہ کہنا کہ پاسپورٹ محض سفری دستاویز ہے، پاسپورٹ ایکٹ کی صریح غلط تشریح ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی طور پر یہ مؤقف واضح ہونا چاہیے کہ جس شخص کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ ہے، وہ ہندوستانی شہری ہے۔ جسٹس لوکر کے مطابق دنیا بھر میں ہندوستانی سفارت خانے اور غیر ملکی قونصل خانے بھی اسی بنیاد پر ویزے جاری کرتے ہیں کہ پاسپورٹ رکھنے والا ہندوستانی شہری ہے۔ اگر خود ہندوستانی حکومت پاسپورٹ کو شہریت کے ثبوت کے طور پر تسلیم نہ کرے تو اس سے بین الاقوامی سطح پر بھی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا موجودہ مؤقف ’’قانون اور آئین دونوں کے منافی‘‘ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ان شاء اللہ ‘‘مرکزی انگریزی زبان کا حصہ بن چکا ہے، ڈیٹا سے ثابت
تنازع کیسے شروع ہوا؟
۲۴؍ جون کو وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز ہے اور اسے شہریت کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر پاسپورٹ بھی شہریت کا ثبوت نہیں تو پھر ہندوستانی شہری اپنی شہریت کس دستاویز سے ثابت کریں گے۔ اگلے روز حکومت نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ کو کبھی بھی شہریت کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی حالیہ برسوں میں اس حوالے سے کوئی نئی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔
مرکز نے اپنے مؤقف کے حق میں پاسپورٹ ایکٹ ۱۹۶۷ء کی دفعہ ۲۰؍ کا حوالہ دیا، جس کے تحت حکومت عوامی مفاد میں کسی غیر شہری کو بھی مخصوص حالات میں پاسپورٹ یا سفری دستاویز جاری کر سکتی ہے۔ حکومت نے بامبے ہائی کورٹ کے ۲۰۱۳ء کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں کہا گیا تھا کہ صرف پاسپورٹ رکھنے سے کسی شخص کی شہریت ثابت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا،‘‘ایران میں ایک پنڈت کی تقریر وائرل
شہریت کا ثبوت کون سی دستاویز ہے؟
عدالتی فیصلوں کے مطابق آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، مستقل اکاؤنٹ نمبر (PAN)، گرام پنچایت کے سرٹیفکیٹ، بینک اکاؤنٹس یا جائیداد کی دستاویزات بھی بذاتِ خود ہندوستانی شہریت کا ثبوت نہیں سمجھی جاتیں۔ ہندوستان میں پیدائشی شہریوں کو عموماً کوئی الگ شہریت کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا، جبکہ صرف وہ غیر ملکی افراد جو قانونی طریقے سے ہندوستانی شہریت حاصل کرتے ہیں، انہیں باقاعدہ شہریت کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے۔