Inquilab Logo Happiest Places to Work

شرجیل امام نے دہلی کورٹ سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کی اجازت مانگی

Updated: July 06, 2026, 6:26 PM IST | New Delhi

یو اے پی اے کے تحت زیرِ سماعت قیدی اور سابق طلبہ لیڈر شرجیل امام نے دہلی کی عدالت سے درخواست کی ہے کہ انہیں جیل میں اپنے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مواد اور کمپیوٹر تک نگرانی میں رسائی دی جائے تاکہ وہ اپنا تحقیقی مقالہ مکمل کر سکیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسلسل قید کسی قیدی کو تعلیم کے حق سے محروم نہیں کر سکتی۔ عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ پہلے جیل انتظامیہ نے اجازت دی تھی، تاہم سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلی کے بعد یہ سہولت روک دی گئی۔

Sharjeel Imam Photo: INN
شرجیل امام۔ تصویر: آئی این این

مسلم طلبہ لیڈر اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت زیرِ سماعت قیدی شرجیل امام نے دہلی کی ایک عدالت سے اپنے تحقیقی مواد اور کمپیوٹر تک رسائی کی اجازت طلب کی ہے تاکہ وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) میں زیرِ تکمیل اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کر سکیں۔ اپنے وکیل کے ذریعے دائر درخواست میں شرجیل امام نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں ایک پین ڈرائیو میں محفوظ تحقیقی مواد جیل کے اندر وصول کرنے کی اجازت دی جائے، جسے ان کے وکلا جیل حکام کے ذریعے فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نگرانی میں جیل کے کمپیوٹر استعمال کرنے کی بھی اجازت مانگی ہے تاکہ وہ اپنے تحقیقی کام کو مکمل کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: بارہ بنکی: مسلم نوجوان کو بچھڑے کے سامنے زبردستی سجدہ کروانے کا ویڈیو وائرل

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جس تحقیقی مواد تک رسائی مانگی جا رہی ہے، اس پر حکومتِ ہند کی جانب سے کسی قسم کی پابندی یا قانونی قدغن عائد نہیں ہے، اس لیے اسے استعمال کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ عدالتی درخواست کے مطابق رواں سال اپریل میں عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو اسی نوعیت کی درخواست پر غور کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ نے شرجیل امام کو اپنے وکیل سے پین ڈرائیو حاصل کرنے کی اجازت بھی دے دی تھی، تاہم تحقیقی مواد فراہم کیے جانے سے قبل ان کا تبادلہ ہو گیا۔ بعد ازاں تعینات ہونے والے نئے سپرنٹنڈنٹ نے اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے واضح حکم کے بغیر شرجیل امام کو نہ تو تحقیقی مواد فراہم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کمپیوٹر تک رسائی دی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹی وی کے حکومت دنیا بھر میں ورلڈ تمل کانفرنس منعقد کرے گی

یاد رہے کہ شرجیل امام کو جنوری ۲۰۲۰ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری سے قبل وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جدید تاریخ (Modern History) کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھے اور اپنی پی ایچ ڈی پر کام کر رہے تھے۔ یہ درخواست شاہدرہ کی کڑکڑڈوما عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی کے روبرو پیش کی گئی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسی ٹرائل کورٹ نے حال ہی میں شرجیل امام اور عمر خالد کی نئی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ شرجیل امام گزشتہ ساڑھے چھ برس سے عدالتی حراست میں ہیں۔ اگرچہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) مخالف احتجاج کے دوران کی گئی تقاریر سے متعلق بعض دیگر مقدمات میں انہیں ضمانت مل چکی ہے، تاہم ۲۰۲۰ء دہلی فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے مقدمے میں یو اے پی اے کی دفعات کے تحت عائد الزامات کے باعث وہ اب بھی جیل میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK