Updated: July 12, 2026, 7:05 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نئے ائیرفورس ون طیارے سے متعلق سکیوریٹی خدشات کی خبریں سامنے آنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے خفیہ معلومات کے افشا کی تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں نیویارک ٹائمز کے۴؍ صحافیوں کو عدالتی سمن جاری کئے گئے ہیں، جس سے قومی سلامتی اور صحافتی آزادی پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نئے ائیرفورس ون طیارے سے متعلق سکیورٹی خدشات کی خبریں شائع ہونے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ان رپورٹس سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز کے متعدد صحافیوں کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کر دی ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک ٹائمز کے چار صحافیوں کو عدالتی سمن جاری کیے گئے ہیں اور انہیں گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہو کر گواہی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق وہائٹ ہاؤس نے اس معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کو سونپ دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کاش پٹیل نے اس معاملے پر وائٹ ہاؤس میں کئی گھنٹے گزارے اور مختلف حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم۷۱؍ برس کی عمر میں اچانک علالت کے بعد انتقال کر گئے
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کا سفر نئے ائیرفورس ون طیارے میں کیا تھا، تاہم واپسی پر انہوں نے اچانک پرانے ائیرفورس ون میں سفر کیا۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے آخری لمحوں میں خفیہ سروس کی سفارش پر طیارہ تبدیل کیا کیونکہ نئے طیارے میں بعض اہم سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی ٹیکنالوجی مکمل طور پر نصب نہیں تھی۔ محکمہ انصاف نے اس معاملے پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحقیقات کا مقصد صحافیوں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ان افراد کا تعین کرنا ہے جنہوں نے حساس اور خفیہ معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ امریکہ میں قومی سلامتی، سرکاری معلومات کے افشا اور صحافتی آزادی کے درمیان توازن سے متعلق نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔